ایف آئی اے کے چھاپے، تربت میں قتل ہونیوالو ں کو بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کرنیوالے 3 ایجنٹ گرفتار کرلئے

 ایف آئی اے کے چھاپے، تربت میں قتل ہونیوالو ں کو بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کرنیوالے 3 ایجنٹ گرفتار کرلئے

کوئٹہ/اسلام آباد: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے ) نے سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں چھاپے مار کر تربت میں قتل ہونے والے 4 نوجوانوں کو بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کرنے والے 3 ایجنٹ گرفتار کرلئے،ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے تربت سانحہ کے مقتولین میں سے 4 افراد کو بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کرنے والے 3 ایجنٹس کو گرفتار کر لیا،خیال رہے کہ 15 نومبر کو بلوچستان کے ضلع تربت سے 30 کلو میٹر دور بلیدہ کے پہاڑی علاقے سے 15 افراد کی لاشیں ملی تھیں جن کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق تربت میں مارے گئے سیالکوٹ کے رہائشی نوجوانوں غفور اور ظفر کے اہل خانہ کی نشاندہی پر ایجنٹ تنویر کو سمبڑیال سے گرفتار کیا گیا، دوسری جانب گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے مقتول غلام ربانی اور ذوالفقار کے اہل خانہ کی نشاندہی پر ایجنٹ ظفر اقبال اور وحید کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ،تربت میں فائرنگ سے جاں بحق 15 افراد کی میتیں پنجاب روانہ کردی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ تین مرکزی ایجنٹس کی گرفتاری واقعے کی تفتیش میں بڑی پیش رفت ہے اور ایجنٹس کی گرفتاریوں سے نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد تک پہنچنے میں مدد ملے گی، وزارت داخلہ کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق مزید شواہد بھی حاصل کر لیے گئے ہیں،خیال رہے کہ تربت میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 15 میں سے 4 افراد کی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی تھی،جب کہ شناخت کی جانے والی لاشوں میں محمد حسین کا تعلق واہ کینٹ، اظہر وقاص، خرم شہزاد اور ذوالفقار کا تعلق منڈی بہاؤالدین، غلام ربانی اور احسن رضا کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔دیگر مقتولین میں سے سیف اللہ کا تعلق گجرات، محمد الیاس، عبدالغفور اور طیب کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔

لیویز ذرائع کے مطابق قتل کیے جانے والے افراد وہ ہیں جو غیر قانونی طور پر یہاں سے ایران کے راستے یورپی ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں اور جس علاقے سے 15 افراد کی لاشیں ملیں، یہ وہی روٹ ہے جو غیر قانونی طور پر ایران جانے والے افراد استعمال کرتے ہیں۔لیویز ذرائع کے مطابق تربت کے علاقے بلیدہ پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے اور غیر ملک جانے کے خواہشمند افراد کو روکنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔