شمالی کوریا اگر جوہری تجربات بند کرے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے: امریکا

واشنگٹن:امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اگر جوہری و میزائلی تجربات اور اس سلسلے میں پروگراموں کو آگے بڑھانا بند کر دے تو اس کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تفصیئلات کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائلی تجربات اور جوہری پروگرام کی توسیع، واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ بنے ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کی مسلح افواج اس سلسلے میں صورت حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اس لئے کہ حالیہ دو ماہ کے دوران شمالی کوریا نے کوئی میزائلی تجربہ نہیں کیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ بحرالکاہل میں امریکی فوج کے کمانڈر ہیری ہیرس نے جمعرات کے روز ٹوکیو میں جاپان کے وزیر دفاع ایٹسونوری اونودیرا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری و میزائلی پروگرام کے مسئلے کے حل کے لئے فوجی طاقت کے ساتھ ڈپلومیسی کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے خصوصی نمائندوں نے بھی دو طرفہ مذاکرات میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت ہے۔جنوبی کوریا کے ایٹمی امور میں نمائندے لی دو ہون نے جمعے کو سیؤل میں اپنے امریکی ہم منصب جوزف وائی یون سے مذاکرات میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پرامن طریقہ اختیار کئے جانے کی ضرورت ہے۔
دونوں فریقوں نے ایسی حالت میں مسئلے کے حل میں مذاکرات کی ضرورت پر تاکید کی ہے کہ جنوبی کوریا کے مشرقی سمندر میں امریکہ نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں انجام دی ہیں جن کا مقصد طاقت کی نمائش اور جزیرہ نمائے کوریا میں کشیدگی بڑھانا رہا ہے۔
شمالی کوریا نے جزیرہ نمائے کوریا میں کشیدگی کی روک تھام کرنے میں امریکہ کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو چاہئے کہ شمالی کوریا کے خلاف دشمنانہ پالیسیاں ترک کردے اور پیانگ یانگ کی جوہری توانائی ختم کرنے کی پالیسیوں سے باز آجائے۔پیانگ یانگ کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کی مضبوط دفاعی جوہری توانائی ہی امریکی حملے کی روک تھام کا واحد ذریعہ ہے۔