قائد آباد دھماکے کی مکمل تفتیش تک کچھ نہیں کہہ سکتے، وزیراعلیٰ سندھ

قائد آباد دھماکے کی مکمل تفتیش تک کچھ نہیں کہہ سکتے، وزیراعلیٰ سندھ
قائد آباد سے ایک اور ڈیوائس بھی ملی تھی جس کو ناکارہ بنا دیا گیا، وزیر اعلیٰ سندھ۔۔۔۔۔فائل فوٹو

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہےکہ قائد آباد دھماکے کی مکمل تفتیش تک کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ تفتیش کرنی ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور ٹارگٹ کیا تھا۔


کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مراد علی شاہ نے قائد آباد دھماکے میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 12 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 10 کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جب کہ دو زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ قائد آباد سے ایک اور ڈیوائس بھی ملی تھی جس کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ دھماکے کی تحقیقات کریں گے اور اس کی مکمل تفتیش کی جائے گی جس کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ دھماکا کس نوعیت کا تھا۔ اس لیے مکمل تفتیش تک کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ تفتیش کرنی ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور ٹارگٹ کیا تھا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ فرانزک لیب کے لیے زمین حاصل کر لی ہے۔ سندھ میں لیب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جب تک دیگر صوبوں سے مدد لیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کے یوٹرن سے متعلق بیان پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پتا نہیں وزیراعظم کے بیان کا کیا مقصد تھا اب یوٹرن سے ہٹ کر ڈبلیو ٹرن ہو گئے ہیں۔