بارودی مواد رکھنے کے جرم میں ایم کیو ایم کے کارکن کو 24 سال قید

بارودی مواد رکھنے کے جرم میں ایم کیو ایم کے کارکن کو 24 سال قید

کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی)نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)کے کارکن کو بارودی مواد اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنا دی۔


اس حوالے سے بتایا گیا کہ مجرم نعمان خان پر گو ایش ایڈوینچرپارک میں 2017 میں بارودی مواد اور غیر رجسٹرڈ اسلحہ رکھنے کے الزام ثابت ہو گئے۔مجرم کے خلاف گلستان جوہر پولیس اسٹیشن میں بارودی مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے دو مختلف کیسز درج تھے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پراسیکیوشن نے زیر حراست ملزم پر عائد الزامات ثابت کردیئے تاہم مجرم نعمان خان کو اے ٹی اے 1997 کے سیکشن 7 ایف ایف کے تحت غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں 14 سال قید با مشقت سزا سنائی گئی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بارودی مواد رکھنے کے جرم میں 10 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔فیصلے کے مطابق جرمانے کی عدم ادائیگی پر مجرم کو مزید ایک سال قید کی سزا ہوگی۔بارودی مواد اور غیرقانونی اسلحہ کیسز میں متحدہ قومی قوومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے رکن اور مفرر ملزم انبساط ملک کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔

پراسیکیوشن کے مطابق رینجرز کو اطلاع ملی تھی کہ ملزم انبساط ملک نے پبلک پارک میں دھماکہ خیز مواد اور غیرقانونی اسلحہ چھپایا تھا تاکہ شہر میں ٹارگیٹ کلنگ اور دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔تاہم اطلاع ملنے پر رینجرز نے 21 مارچ 2017 کو پارک میں تعمیر ایک اسٹور روم میں چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کرلیا تھا۔ مقدمے کے تحقیقاتی افسر نے رپورٹ میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نامزد ملزم نعمان خان کو حراست میں لے لیا تاہم مرکزی ملزم انبساط ملک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں انبساط ملک کو فرار قرار دیا گیا۔

ہیڈکواٹرز پاکستان رینجرز (سندھ) کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ وکیل دفاع عابد زمان نے ملزم نعمان خان پر عائد الزامات سے انکار کیا اور کہا کہ غیر قانونی اسلحہ اور بارودی مواد کیس میں ان کے موکل کو پھنسایا گیا۔دوسری جانب اسسٹنٹ پراسیکیوٹر جنرل جاوید اعوان نے دلائل پیش کیے کہ پراسیکیوشن کے پاس ملزم کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں اور انہوں نے قانون کے مطابق سزا سنانے کی استدعا  کی.