کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
کیپشن: کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
سورس: فائل فوٹو

مصطفیٰ ملک۔۔ کمیونیکیشن اسپیشلسٹ

کہتے ہیں کہ کتاب انسان کا بہترین دوست ہوتی ہے، ہماری کتاب سے کبھی دوستی نہیں رہی ہاں شناسائی ضرور رہی ہے۔ بچپن میںہمارا عقد زبردستی نصابی کتب سے کر دیا گیا اور ایک مشرقی شوہر کی طرح ہم آج تک اس تعلق کو کسی نہ کسی طرح نباہ رہے ہیں ۔ میٹرک تک تو نصابی کتب کے علاوہ کسی اور کتاب کی طرف دیکھنے کا نہ موقع ملا نہ اجازت، کالج میںہم بجائے سنورنے کے بگڑنے لگے نصابی کتب اور ہمارے رشتے میں دراڑ آنے لگی اور اس کی ایک وجہ ہماری غیر نصابی کتب کی جانب رغبت تھی۔ نصابی کتابیں پڑھنے پر ہمارے مستقبل کا دارومدار تھا اور غیر نصابی کتب ہمارے اندر موجود تشنگی کو مٹانے کا ذریعہ تھیں۔ دو کشتیوں کو سوار ہمیشہ ڈوبتا ہے مگر ہمارے معاملے میں ایسا نہیں ہوا اور ہم کتابوں سے اپنے رشتے کو متوازن رکھنے میں کامیاب ہو گئے

یونیورسٹی پہنچے تو وہاں یہ مصرع گونج رہا تھا"مہنگی ہیں گر کتابیں تو چہرے پڑھا کرو" ہمارے پاس بھی کتابیں خریدنے کیلئے پیسے نہیں تھے ہم بھی چہرے پڑھنے کے کار خیر میں شامل ہو گئے۔ چہروں کی بھی قسمیں تھیں کچھ تو ان بیش قیمت کتابوں کی مانند تھے جو شیشے کی بند الماری میں پڑی رہتی ہیں اور مخصوص لوگ ہی انہیں پڑھ سکتے ہیں کچھ چہرے قبر کی آخری رات کی کتاب جیسے تھے کہ ایک بار انہیں پڑھ لیا تو ساری زندگی گناہ ہی لگے گی، کچھ چہروں میں ذرائع ابلاغ کی کتابوں جیسی چکا چوند تھی مگر وہ ہمیں کبھی بھی پڑھنے کیلئے دستیاب نہیں ہوئے۔ کچھ انگریزی افسانوں جیسے بھی تھے جاذب نظر، دلکش اور بے باک ہم ہمیشہ ان سے دور رہے وجہ پتہ نہیں انگریزی زبان تھی یا بے باکی؟ ایک دن کنٹین پر بیٹھے مطالعہ کیلئے اپنے مطلب کے چہرے کی تلاش میں تھے کہ ایک بے تکلف دوست نے ہردلعزیز مگر معیوب گالی دے کر کہا کہ بھونڈی کر رہے ہو۔ ہم تو سٹپٹا کر رہ گئے کہ اس جاہل نے ہمارے مطالعے کو بھونڈی جیسے عامیانہ اور قبیح فعل سے تشبیع دی ہے ، غصہ تو بہت آیا کہ اس نا ہنجار کو بے نقط کی سناﺅں مگر اس سے پہلے کہ ہم کچھ بولتے وہ بھی مطالے میں مصروف ہو گیاچکا تھا

 ہم نے چہروں کا مطالعہ بھی ترک کر دیا اس کی وجہ دوست کا اسے بھونڈی کہنا ہرگز نہیں تھا، ہمیں احساس ہو گیا کہ چہرے پڑھنے کیلئے بھی انسان کی جیب میں پیسے ہونے چاہیئں اب ہم ان لوگوں کے بیچ بیٹھنا شروع ہو گئے جن کے بارے میں قیاس تھا کہ یہ کتابیں بہت پڑھتے ہیں۔ ایک دن عرض کی کہ ہمیں بھی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے رہنمائی کریں کہ کیا پڑھوں؟ ایک آواز آئی چونکہ تم صحاافت کے طالبعلم ہو اس لیے تمہیں نام چومسکی کو پڑھنا چاہیے عرض کی حضور کوئی ایک کتاب بتا دیں انہوں نے نصف درجن کے قریب کتابوں کے نام بتا دیے، ہم نے جھجھکتے ہوئے کہا کہ کوئی اردو میں نہیں کیا ؟ سب نے ہمیں چونک کر دیکھا اور ہماری مجبوری کا ادراک کرتے ہوئے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ شہاب نامہ پڑھیں شہاب نامہ۔ ایک لڑکے نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ بھائی آپ پالو کوہلو کی الکیمسٹ بھی پڑھو بہت آسان انگریزی میں ہے۔ اس طرح ہم اپنی یونیورسٹی کے دور میں دوسروں کی تجویز کردہ کتب ہی پڑھتے رہے اور نصابی کتب سے ہمارا ہرجائی پن ویسے کا ویسا رہا

عملی زندگی میں قدم رکھا تو نصابی کتب کو ہم نے طلاق دے دی اورغیر نصابی کتب نے ہم سے خلع لے لی۔ دن رات کی محنت سے پیسے تو ملنے لگے مگر ایک تنہائی اور کمی کا احساس ہمیشہ دامن گیر رہتا، دوستوں کو آگے پڑھتے دیکھتے تو نصابی کتب کی یاد ستاتی اور جب کسی محفل میں کسی کتاب سے متعلق بحث سننے کو ملتی تو دل کرتا ابھی جا کر خرید لوں مگر افسوس کہ فکر روز گار نے سارے لطیف جذبوںکا قتل کر دیا ۔ ٹی وی ،اخبار کی نوکری دینے والے یہ نہیں پوچھتے کہ فیض کو پڑھا ہے، علی عباس جلال پوری کون ہے، منٹو کی وجہ شہرت بتاﺅ وہ تو بس یہ پوچھتے ہیں کمپیوٹر ا کا استعمال آتا ہے، ایک منٹ میں کتنے الفاظ ٹائپ کر لیتے ہو، رات کو دیر تک رکنا پڑے تو کوئی مسئلہ تو نہیں ؟ ایسے میں کتابیں پڑھنے کی تمنا کھلن کو مانگے ہے چاند کے مترادف ہی ہو گی۔ پھر یہ ہوا کہ کتابیں ہم سے اور ہم کتابوں سے دور ہو گئے، کتابوں کی یاد ایک ہوک بن کر دل سے نکلتی اور ہم دفتر جانے سے پہلے الماری میں بند کتابوں پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈالتے اور پھر کبھی پڑھ لیں گے کی دل کو تسلی دیتے ہوئے کام میں جُت جاتے۔ کتاب پڑھنے کی حسرت رہی مگر کتاب خریدنے کی خُو ہم نے نہ چھوڑی۔ شہر میں کہیں بھی کتاب میلہ لگا ہو ہم کتاب خریدنے پہنچ جاتے ہیں۔

 جامعہ پنجاب میں ہر سال کتاب میلے کا انعقاد ہوتا ہے ،ہم پورا سال اس کا انتظار کرتے ہیں اور کتابوں کیلئے پیسے پس انداز کرتے رہتے ہیں۔اس سال یہ میلہ ایک ماہ تاخیر سے شروع ہوا، تاخیر کی وجہ وہی لوگ تھے جو دلیل سے عاری ہیں اور ہر اس جگہ کو نابود کردینا چاہتے ہیں جہاں دلیل پنپ رہی ہو ۔ جامعہ پنجاب کی انتظامیہ اورطلباء مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے تمام خطرات کے باوجود کتاب میلے کا انعقاد پہلے جیسے جوش وجذبے کے ساتھ کیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ کتاب ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ آﺅ نور کی طرف، آﺅ کتاب کی طرف کی بازگشت کے تعاقب میں ہم بھی کتاب میلے میں جا پہنچے۔ ماحول کتاب دوست اور پُرامن تھا اور لوگ اپنی پسند کی کتب خرید رہے تھے، ملک بھر کے پبلشرز اور ادارے اپنی کتب کے ساتھ وہاں موجود تھے۔کتاب میلے میں داخل ہوتے ہی ہماری نظر جس ا سٹال پر پڑی وہاں لکھا تھا "دینی صحافت میں معتبر نام"بطور صحافی ہمیں یہ پڑھ کر اچھا لگا کہ چلو صحافت بھی دیندار ہو گئی، اگلے سٹال پر حسیناوئںکابہت رش تھا قریب جا کر دیکھا تو عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کی کتابیں خریدی جا رہی تھیں ۔ اگلے دو اسٹالوں پر انگریزی ادب کی بے قدری دیکھی شاہکار ناول پچاس پچاس روے میں بِک رہے تھے، اتنے میں ایک لڑکے کی آواز آئی بھائی الکیمسٹ ہے؟ یہ سن کر ہمیں اپنا زمانہ طالبعلمی یاد آگیا۔ اگلے

اسٹال پر ایک با ریش نوجوان "حور حاصل کرنے کے اعمال" نامی کتاب کے دام پوچھ رہا تھا ہم جلدی سے آگے بڑھ گئے کہ کہیں یہ وصال حور کی تمنا کو یہیں عملی جامہ نہ پہنا لے۔ دوسرا بڑا مجمع مقابلے کے امتحانات کی کتب پر نظر آیا یہ کتابیں بھی ہاتھوں ہاتھ بک رہی تھیں کیونکہ یہاں ہر بندہ رعب اور ٹھاٹھ والی ملازمت چاہتا ہے۔ ایک ا سٹال پر کچھ سنجیدہ صورت لڑکیاں پروفیسر کامران بٹ کے سحر میں ڈوبی راجہ گدھ خرید رہی تھیں ، پاس ہی مستنصر حسین تارڑ کے افسانے گلبرگ سے ڈی ایچ اے کا سفر طے کرتے ہوئے مضمحل سے دکھائی دے رہے تھے۔ ایک ا سٹال ویران پڑا تھا ہم نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہاں علی عباس جلالپوری، سبط حسن، ڈاکٹر مبارک کی کتابیں نوحہ کناں تھیں کہ ہمیں پڑھنے والے کیا ہوئے؟ اتنے میںہمیں ہلکی ہلکی سسکیاں سنائی دیں قریب ہو کر دیکھا تو عبداللہ حسین کی کتابیں ان کی جدائی میں اشک بار تھیں،اداس نسلوں والا کتابیں بھی اداس کر گیا۔ مرحوم انتظار حسین کو کوئی مجموعہ ہمیں دکھائی نہ دیا ایسے محسوس ہوا کہ جیسے بے قدری کے ڈر سے وہ اپنے شاہکار بھی لحد میں ساتھ ہی لے گئے ہوں۔

ہم نے بھی اس کتاب میلے سے کچھ موتی سمیٹے اور آتے ہوئے ایک صاحب سے جو کہ انتظامیہ میں سے تھے ،پوچھا جناب اب تک کتنی کتابیں بک چکی ہیں انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ کتابیں اب تک بِک چکی ہیں۔ یہ سن کر ہمیں خوشی ہوئی کہ ابھی ڈیڑھ لاکھ لوگ ایسے ہیں جو کتابیں پڑھتے ہیں ۔ گھر پہنچ کر ہم نے کتابیں الماری میں یہ سوچ کر رکھ دیں کہ ہم بھی ان ڈیڑھ لاکھ لوگوں میں شامل ہیں جو کتابیں خریدتے ہیں