ہاتھی ایک بار پھر!

ہاتھی ایک بار پھر!

1973میں مصر او ر اسرائیل کے درمیان خوفناک جنگ ہوئی، اس جنگ میں یو رپ اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ تھے اور مصر کو عربوں کی حمایت حاصل تھی۔ یہ عرب اسرائیل پہلی جنگ نہیں تھی بلکہ اس سے پہلے بھی تین جنگیں ہو چکی تھیں جس میں امریکہ اور یورپ نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا تھا۔پہلی جنگ اسرائیل کے قیام کے فورا بعد1948میں ہو ئی،دوسری جنگ 1956میں نہر سوئز کی وجہ سے ہو ئی۔نہر سوئز بحیرہء روم کو بحیرہء قلزم سے ملا تی تھی،یہ 163کلومیٹر طویل نہر تھی اور اس کی بدولت تجارتی جہاز افریقہ کے گرد طویل چکر کاٹے بغیر ایشیا اور یورپ میں داخل ہو جا تے تھے۔یہ نہر 1869میں کھودی گئی تھی اور اس وقت یہ معاہدہ ہو اتھا کہ1959یعنی نوے سال تک یہ نہر عالمی طاقتوں کے قبضے میں رہے گی اس کے بعد مصر اسے قومی تحویل میں لے لے گا۔26جولائی 1956میں جمال عبدالناصرنے نہر کو قومی تحویل میں لے لیا جس کی وجہ سے برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی مدد سے مصر پرحملہ کر دیا۔بعد ازاں اقوام متحدہ کی مداخلت سے یہ جنگ ختم ہو ئی اور برطانیہ،فرانس اور اسرائیل نے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔تیسری جنگ1967میں ہوئی جس میں عربوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا اور چوتھی جنگ 1973 میں لڑی گئی جس میں شاہ فیصل نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ شاہ فیصل ا س جنگ کے مرکزی کردار تھے اور انہوں نے تمام عرب ممالک کو متحد کر کے امریکہ اور یورپ کو تیل کی سپلا ئی بند کر دی۔ ایک ہفتے بعد پورا یورپ اور امریکہ اندھیرے میں ڈوب گئے۔کارخانے اور ملیں بند ہو گئیں،ٹرانسپورٹ اور گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہو گئیں،لوگوں نے پیدل سفر شروع کر دیئے۔ان دنوں یورپ میں ایک عجیب قانون بنااوریہ قانون پوری یورپی یونین میں لاگو ہوا۔ قانون کے مطابق کو ئی بندہ اپنی گاڑی پر اکیلے سفر نہیں کر سکتا تھا،ہر گاڑی والے کے لیئے ضروری تھا کہ وہ پیدل چلنے والوں کو لفٹ دے اور تیل کی بچت کے لئے گو رنمنٹ کی پالیسیوں پر عمل کرے۔اس قانون کے مطابق ایک وزیر پر مقدمہ بھی درج ہوا کہ وہ گاڑی میں اکیلے سفر کر رہا تھا اور اس نے کسی کو لفٹ نہیں دی تھی۔مقدمہ چلا، وزیر صاحب عدالت میں پیش ہوئے، جج نے جرمانہ کیا۔وزیر کی جان چھوٹی۔تیل کی بندش نے امریکہ اور یورپ کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا 

اور یہ دونوں زیادہ دیر تک اس صورت حال کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔امریکی انتظامیہ حرکت میں آئی،ہنری کسنجر دوڑتا ہواسعودی عرب پہنچا لیکن شاہ فیصل نے دو دن تک اسے ٹائم نہیں دیا۔دو دن بعد جدہ کے صحرا میں ایک خیمے میں ملاقات ہو ئی،کسنجر نے پہلے تحکمانہ انداز سے شاہ کو قائل کر نے کی کو شش کی کہ اگر ہم نے آپ کے تیل کا بائیکاٹ کر دیا تو دنیا میں کو ئی آپ کا تیل نہیں خریدے گا۔شاہ نے پوری تندہی سے جواب دیا: ”مسٹر کسنجر!ہمارے آباؤاجداد ایک کجھور اور اونٹ کا دودھ پی کر زندگی گزارا کر لیتے تھے،ہم بھی انہی کی اولاد ہیں اور ہم بھی گزارا کر لیں گے۔اگر آپ کوتیل چاہیے تو پہلے اسرائیل کی حمایت سے ہاتھ کھینچیں، اگر آپ فلسطین کے مسئلے کو حل نہیں کرتے تو ہم تیل کے کنوؤں کو آگ لگا دیں گے۔“کسنجر نے دو ٹوک جواب سنا تو خوشامد پر اتر آیا: ”سر میرا جہاز ایندھن نہ ہو نے کی وجہ سے آپ کے ہوائی اڈے پر کھڑا ہے کیا آپ اس میں تیل بھرنے کا حکم نہیں دیں گے؟دیکھئے میں آپ کو اس کی ہرقیمت ادا کر نے کو تیار ہوں۔“شاہ فیصل پوری سنجیدگی سے بولے: ”میں ایک ضعیف اور عمر رسیدہ آدمی ہوں میری ایک ہی خواہش ہے میں مرنے سے پہلے مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز پڑھنا چاہتا ہوں، کیا تم اس میں میری مدد کر و گے۔“شاہ فیصل کو مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نفل پڑھنے تو نصیب نہ ہوئے مگر اس کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں شہید کروا دیا گیا۔ 1975میں 12ربیع الاول کی مناسبت سے شاہی محل میں منعقدہ ایک تقریب سے فارغ سے ہو کر لوگ شاہ سے ملنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ شاہ فیصل فردا فردا مصافحہ کرنے کے بعد کویتی وفد کی جانب بڑھے جو ان سے ملاقات کے لیے ہال میں انتظار کر رہا تھا۔ شاہ کا بھتیجا فیصل بن مساعد بھی اسی وفد کے ساتھ بیٹھا تھا، شاہ فیصل وفد سے ملتے ہوئے جب اس کے قریب پہنچے اور جیسے ہی اسے بوسہ دینے کے لیے جھکے فیصل بن مساعد نے ریوالورنکال کر شاہ فیصل پر فائر کھول دیا، پہلی گولی ان کی ٹھوڑی اور دوسری سر پر لگی،انہیں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا مگر تب تک وہ جاں بحق ہو چکے تھے۔یہ امریکہ اور یورپ کو للکارنے کا نتیجہ تھا جسے محض دو سال بعد انہیں بھگتنا پڑا۔ 

1963میں پاکستان کا ایک وفد امریکہ گیا جس کی قیادت وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کر رہے تھے۔وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد امریکی انتظامیہ نے صدر کینیڈی کے ساتھ پا کستانی وفد کی ملاقات کا انتظام کیا۔یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہو نی تھی،بھٹو صاحب قانون اور وقت کے پابند تھے وہ عین وقت پر اپنے وفد سمیت وائٹ ہاؤس کے میٹنگ روم میں موجود تھے۔صدر کینیڈی آئے،گفتگوشروع ہوئی اور وہ بھٹو صاحب کی جرائت اور حاضر جوابی سے بہت متاثر ہوئے۔گفتگو کے اختتا م پر صدر کینیڈی نے مسٹر بھٹو کی طرف دیکھا، مسکراہٹ چہرے پے سجائی اور پوری سنجیدگی سے بولے: ”مسٹر بھٹو اگر تم امریکی ہو تے تو میری کا بینہ میں وزیر ہوتے۔“بھٹو صاحب نے برجستہ کہا:”مسٹر پریزیڈنٹ غور سے سنیں،میں اگر امریکی ہو تا تو آپ کی جگہ پر ہوتا۔“اس حاضر جوابی نے صدر کینیڈی کو ہلا کر رکھ دیا۔یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہیں امریکی صدر جانسن نے کہا تھا:”تم ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ تمہیں جتنی دولت چاہیئے ہم دیں گے۔“اور بھٹو نے جانسن کو جواب دیا تھا:”مسٹر جانسن ہم غیرت مند قوم ہیں کو ئی بکاؤ مال نہیں۔“ امریکہ کے وزیر خا رجہ ہنری کسنجر نے بھٹو سے کہا تھا:”اگر تم نے اپنا ایٹمی پروگرام ترک نہ کیاتو ہم تمہیں عبرتناک مثال بنا دیں گے۔“اور بھٹو نے کسنجر کو مخاطب کر کے کہا تھا:”مسٹر کسنجر ایٹمی پروگرام پاکستانی قوم کا حق ہے اور ہم اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے اور میں اپنی قوم سے غداری کر کے تاریخ کا مجرم نہیں بننا چاہتا۔“یہ ذوالفقار علی بھٹو کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر تم نے اپنا ایٹمی پروگرام ترک نہ کیا تو ہم تم پر پابندیاں لگا دیں گے تمہاری امداد بند کر دیں گے۔“ اور بھٹو نے کہا تھا: ”ہمیں گھاس کھا کر بھی گزارا کرنا پڑا تو ہم کرلیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔“ان سارے واقعات کے بعد بھٹو کو اپنا انجام معلوم تھا اور وہ اکثر کہا کرتے تھے ”ہاتھی“مجھ سے ناراض ہے۔ہم نے عربوں کو ہتھیار سپلا ئی کیے،ویت نام اور مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر اپنے مؤقف پر قائم رہے اس لیے ہاتھی مجھ سے ناراض ہے۔وہ کہا کرتے تھے ”ہاتھی“ کا حافظہ بڑا تیز ہے یہ میرا جرم کبھی معاف نہیں کرے گا اور پھر ایسا ہی ہوا کہ ہاتھی نے شاہ فیصل کی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو بھی راستے سے ہٹا دیا۔”ہاتھی“ایک بار پھر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ اب کی باردیکھنا یہ ہے کہ بھٹو کا نواسہ اور اس کے اتحادی ہاتھی کو کس طرح لگام ڈالتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں