گوبر اور فوجی جنرل کا مجسمہ۔۔۔۔۔۔

 گوبر اور فوجی جنرل کا مجسمہ۔۔۔۔۔۔

آج کے کالم میں جو قصہ ہے وہ ان فوجی حکمرانوں کے بارے میں جنہوں نے انسانی حقوق، آزادی اظہار راے، میڈیا اور جمہوریت کا گلا گھونٹ رکھا ہے اور ملک کے وسائل پر قابض بھی ہیں۔ جب آزادی اظہار رائے پر پابندی ہو تو مزاحمتی ادب اور مزاحمتی رویے جنم لیتے ہیں اور عوام اپنی نفرت کے اظہار کر ہی لیتے ہیں۔ تو چلیں شروع کرتے ہیں۔    

آزادی کے بعد میانمار (برما) کی فوج نے تیزی سے طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔ سنہ 1962 تک یہ فوج حکومت کا تختہ الٹ کر ملک پر کنٹرول حاصل کر چکی تھی اور اگلے 50 سال تک عملی طور پر بلا مقابلہ حکومت کرتی رہی۔برما کی فوج خارجہ، معاشی و داخلہ معاملات کے ساتھ ساتھ بینکنگ سے لے کر انڈسٹری، تعمیراتی و نقل و حمل کے شعبے اور سیاحت تک ہر چیز میں سرمایہ کاری کے ساتھ معیشت کو کنٹرول بھی کرتی رہی۔ معیشت پر فوج کی گرفت کا مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی ہمیشہ فوج کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ سیاستدان،  کاروباری طبقہ اور صنعتکار کے بھی طاقت کی وجہ سے فوج کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔لیکن فوج کی برسوں کی بدعنوانی اور معاشی بدانتظامی نے عوامی رائے کو فیصلہ کن طور پر فوجی قیادت کے خلاف اور اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی کی جمہوری طرز حکمرانی کی جانب راغب کیا اور یہی وجہ ہے کہ سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے پچھلے انتخابات میں زبردست اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔

میانمار یعنی برما کی نوبل انعام یافتہ76 سالہ اپوزیشن رہنما سے آگ سان سوچی کے وطن سے منسوب ایک قصہ آجکل سوشل میڈیاپر پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ برما میں سالوں سے فوجی ڈکٹیٹرز کی حکومت ہے جمہوری اور انسانی حقوق سلب ہیں۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ  میں بھی نصف سے زائد وقت فوجی ڈکٹیٹر ہی حکمران رہے جبکہ ایک فوجی حکمران یحییٰ کے دورمیں ملک دولخت ہوا۔ لیاقت علی خان قتل ہوئے، بھٹو کو پھانسی ہوئی، بے نظیر شہید ہوئیں اور ملک 75 سالہ تاریخ میں سے نصف سے زائد وقت مارشل لا کی تاریکی میں گھرا  رہا۔ گو کہ بیچ بیچ میں جمہوریت کے وقفے آتے رہے لیکن اس دوران بھی حکومتوں کے ہاتھ فوجی ڈوری سے بندھے رہے۔ ہمارے ٹوٹے پھوٹے جمہوری ادوار میں بھی اصل حکمران فوجی اسٹیبلشمنٹ ہی رہی اور سیاسدان کٹھ پتلی کی طرح ان کے اشاروں پر کھیلتے رہے جس کا خمیازہ ملک و قوم برداشت کرتی رہی۔ 

واضع رہے کہ سوچی کو اپنے ملک میں جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنے پر کئی برس تک نظربند رہنے کی وجہ سے امن کا نوبیل انعام بھی مل چکا ہے۔وہ سنہ 1989 سے سنہ 2010 تک اپنے گھر میں نظر بندی کے عرصے میں فوجی آمریت کے خلاف عزم و استقلال کی علامت کے طور پر پہنچانی جاتی تھیں۔ آنگ سان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے سنہ 2015 کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کی۔ مگر ایک آئینی شق کے تحت صدر بننے سے روک دیا گیا۔ برما میں انسانی حقوق سلب ہیں اور فری میڈیا اور اظہار رائے پر مکمل پابندی ہے۔ لیکن جب ہر طرف جبر ہو تو مزاحمتی ادب جنم لیتا ہے اور عوام تک بات پہنچ ہی جاتی ہے۔ 

آتے ہیں پھر اس قصے کی طرف جو فوجی جنتا کے بارے میں مزاحمتی ادب کی ایک بہترین تحریر ہے۔

وہ تحریر کچھ اس طرح سے ہے۔

”برما کے شہر یانگون کے قریب فوجی چھاؤنی سے متصل کچی بستی سے گزرنے کا راستہ تھا۔ اس پر ایک دن ایک لفٹین صاحب چھاؤنی کی طرف جار ہے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ گوبر سے انسانی مجسمہ بنا رہا ہے۔ ازراہ تفنن لفٹین نے پوچھا "یہ کیا بنا رہے ہو"

بچے نے ایک نظر اٹھا کر لفٹین کی وردی پر ڈالی اور کہالفٹین بنا رہا ہوں " 

لفٹین بیچارہ شرمندہ سا ہو گیا۔ چھاؤنی پہنچا تو یونٹ کپتان کو قصہ سنایا۔ کپتان محظوظ ہوا، کہنے لگا، چلو اسے دیکھ کر آتے ہیں۔ دونوں پہنچے۔ بچہ اب بھی مجسمہ بنانے میں محو تھاکپتان نے لفٹین کا مزید مذاق اڑانے کی نیت سے سوال دہرا دیا

" یہ کیا بنا رہے ہو"بچے نے نظریں اٹھائیں، ایک لحظہ توقف کیا اور بولا

"کپتان بنا رہا ہوں "

اب خفیف ہونے کی باری کپتان کی تھی۔

لفٹین بیچارہ کھل کر ہنس بھی نہ سکا۔خیر دونوں واپس پہنچے تو راستے میں یونٹ  کمانڈر  میجر صاحب مل گئے۔ قصہ سنا تو کھلکھلا کر ہنس دیے۔ دونوں کو لیے پھر بچے کے پاس پہنچے  سوال دہرایا گیا۔بچے نے اس دفعہ انتظار بھی نہیں کیا اور بولا " میجر بنا رہا ہوں " 

لیجیے صاحب، تماشہ بن گیا۔ ایک ایک کر کے کرنل، بریگیڈیئر، میجر جنرل وغیرہ کو بھی اپنا اپنا جواب مل گیا۔ 

یونٹ کمانڈر صاحب بھنا کر واپس آفس پہنچے تو جنرل صاحب تشریف لائے ہوئے تھے صاحب نے غصے میں کھولتے ہوئے قصہ ان کے  گوش گذار کر دیا۔ غصہ اس لیے بھی کہ اتنے چھوٹے بچے کو سزا بھی دینا ممکن نہیں تھا۔جنرل صاحب مسکرائے اور کہا

"تم لوگوں کو سوال پوچھنے کا سلیقہ ہی نہیں، مجھے لے کر چلو۔ میں سکھاتا ہوں کہ سوال کیسے پوچھا جاتا ہے

لیجیے صاحب پوری یونٹ کا قافلہ لشٹم پشٹم جنرل کی سربراہی میں بچے کے سر پر آن کھڑا ہوا۔ بچہ اب بھی گوبر لیپ کر مجسمے کی نوک پلک سنوار رہا تھا۔ کمانڈر نے براہ راست سوال کرنے کے بجائے عمر بھر کی ریاضت کی روشنی میں نفسیاتی وار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ساری یونٹ مودب کھڑی تھی، جنرل نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر پچکارا اور بولے

"کیوں بیٹا، میرا مجسمہ بنا رہے ہو؟"بچے نے اوپر سے نیچے تک کمانڈر کا جائزہ لیا، یونٹ کا وہ حال کہ کاٹو تو لہو نہ نکلے۔ بچے نے آخری نظر ان کے دمکتے چہرے پر ڈالی پھر مجسمے پر اور مایوسی سے بولا۔میرے پاس اتنا گوبر نہیں ہے۔

"نہیں، میرے پاس اتنا گوبر  نہیں ہے"

کیونکہ میانمار بیرونی دنیا سے کٹا ہوا ہے اور وہاں کی معلوماے تک رسائی کے تمام ذرائع پابندی کا شکار ہیں اس لیے  غیر مصدق اطلاعات کے مطابق کہتے ہیں کہ بعد میں یہ بچہ مسنگ پرسنز میں شامل ہو گیا اور آج تک بازیاب نہ ہو سکا۔

یہ ایک علامتی کہانی ہے اسی طرح کا ایک واقع میرے ساتھ پیش آیا۔ جب سابق صدر فاروق لغاری نے ڈیرہ غازی خان کی اناری ویلی کو طاقت کے بل بوتے پر اسے ٹورسٹ ریزارٹ بنانے کی ٹھانی تو غریب کسانوں کی اراضی چھیننے کے لیے دفعہ 144 لگا دی۔ پورے ضلع میں فاروق لغاری کے خلاف بہت غصہ تھا۔ مجھے دی نیوز کی طرف سے رپورٹ کرنے کو بھیجا گیا۔ فاروق لغاری اقتدار کے اتنے بھوکے تھے کہ آبپاشی کے مقاصد کے لیے بننے والی پانی کی کھال ”نالی“ کی تختی  پر بھی ”چیئر مین کھال کمیٹی“ تحریر کروایا۔ مقامی لوگوں نے ایسی تمام تختیو کے سامنے گوبر کے ڈھیر لگا کر غصے کا اظہار کیا۔ میں نے وہ تصاویر اپنے اخبار کو بھیجیں لیکن نہ چھپ سکیں اور صدر فاروق لغاری کے دباؤ پر میری تحقیقاتی سٹوری کا ایک حصہ ہی چھپ سکا اور اس وقت کے دی نیوز کے ایڈیٹر بھی فارغ ہوئے۔ مرحوم عباس اطہر نے بعد میں وہ تصاویر اپنے کالم میں چھاپیں۔  

مقصد یہ کہ غاصبوں کے گوبر سے مجسمے بنانے ہوں یا ان کے نام کی تختیوں پر گوبر مل کر اپنے غصے کا اظہار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایسی قومیں زندہ ہوتی ہیں۔ شہباز گل یا اعظم سواتی سے اسٹیبلشمنٹ کی جتنی نفرت ہو لیکن ان کو ننگا کر کے آپ کس جذبے کی تسکین چاہتے ہیں۔ آج اس عمل کی تعریف کرنے والے رانا ثنااللہ کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہو چکا ہے۔ کب سیاستدانوں کو عقل آئے گی اور وہ باہمی اختلاف چھوڑ کر عقل کا مظاہرہ کریں گے۔ 

کالم کے بارے میں اپنی رائے اس وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔

مصنف کے بارے میں