لاکھوں بوسنیائی مسلمانوں کی شہادت، ’قیامت صغریٰ‘

Riaz ch, Daily Nai Baat, Urdu Newspaper, e-paper, Pakistan, Lahore

1990کی دہائی میں جب یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ہوئے تو کئی مسلح تنازعات نے جنم لیا۔ بوسنیائی جنگ بھی ان تنازعات میں سے ایک تھی۔بوسنیا ہرزیگووینا میں جب سرب فوجوں نے گیارہ جولائی 1995 نے سربرنیکا کے قصبے پر قبضہ کیا تو صرف دس روز میں درندہ صفت سرب فوجیوں نے منظم انداز میں 8000 سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو شہید کر ڈالا۔مجموعی طورپر تقریباً ساڑھے تین لاکھ بوسنیائی مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، یورپ کی سرزمین پر یہ بدترین نسل کشی تھی۔

بوسنیا  ہرزیگووینا نے 1992 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کیا کچھ ہی عرصے بعد اسے امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا جبکہ  بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا اسی وجہ سے سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے اس نئے ملک پر حملہ کر دیا۔یہ حملہ گریٹر سربیا منصوبے کا حصہ تھا جس کی تکمیل کیلئے بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ 

ابتدائی طور پر بوسنیائی سرب فورسز نے 1992 میں سربرینیکا پر قبضہ کیا۔ سربرینیکا، بوسنیا و ہرزیگووینا کا ایک شہر ہے۔ یہ شہر بوسنیا و ہرزیگووینا کے علاقے سرپسکا میں شامل ہے جو قدرے آزاد ہے۔ سربرینیکا ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ یہاں بوسنیائی مسلمان 63 فی صد سے زیادہ ہیں۔ یہاں سونے، چاندی اور دیگر کانیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 1995ء کے قتل عام سے پہلے یہاں فولاد کی صنعت بھی مستحکم تھی۔قتل عام کے دوران علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں افراد کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ قتل عام شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو (NATO) افواج کی موجودگی میں ہوا جو اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہیگ کی جرائم کی عالمی 

عدالت نے 2004ء میں اس قتل عام کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔ بوسنیا میں مسلمانوں کے لرزہ خیز قتل عام کو 26 برس بیت گئے۔ متاثرین کے ذہنوں میں ہولناک خونریزی کی یاد آج بھی تازہ ہے۔ قتل عام کے بعد لاشوں کو بلڈوزر کی مدد سے اجتماعی قبروں میں ڈال دیا گیا۔ درندہ صفت، سرب فورسز نے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کی شرمناک تاریخ بھی رقم کی۔ سوشلسٹ جمہوریہ بوسنیا اور ہرزیگوینا کی مسلمان  آبادی کو نسلی صفائی کا سامنا کرنا پڑا خاص طور پر مشرقی بوسنیا۔ ایک اندازے کے مطابق کل20000 سے 50000 مسلم خواتین اور لڑکیوں (جن کی عمریں 12 سال تھیں)اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنیں۔ یہ سب سرب مقامی حکام بالخصوص پولیس فورسز کی براہ راست شمولیت کے ساتھ  انجام دیا گیا تھا۔  تشدد کے دوران تقریباً 33000 بوسنیا مسلمانوں کو قتل کیا گیا جن میں 6000 خواتین اور 1119 بچے بھی شامل ہیں۔

بوسنیا کا کوئی ایسا قصبہ اور شہر نہ بچا جس میں دو دو تین تین ہزار مسلمانوں کی اجتماعی قبریں نہ بنی ہوں۔ اب تک ان اجتماعی قبروں کی تعداد تو صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے جن میں ہزاروں لاشیں پڑی ہیں اور ان لاشوں کا شمار بھی نہیں ہو سکا جن کو زندہ جلا دیا گیا، جن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے، البتہ کچھ عرصہ قبل سی این این چینل کی رپورٹ آئی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ایسی اجتماعی قبر دریافت کی گئی ہے جس میں 400 سے زائد افراد دفن تھے۔”کالی چوٹی“ نامی اس علاقے میں مزید سروے سے معلوم ہوا کہ دو کلو میٹر کے اندر اندر 14 اجتماعی قبریں موجود ہیں۔ 

بوسنین مسلمانوں کا قتل عام اقوام متحدہ کے چہرے پر ایسا بدنما دھبہ ہے کہ سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان بھی کہنے پر مجبور ہوگئے کہ سربرینیکا کا سانحہ ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ کے لیے ایک بھیانک خواب بنا رہے گا۔اجتماعی قبروں میں دفنائے گئے مسلمانوں کی باقیات ملنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ قتل عام میں مرنے والے 8 ہزار مقتولین میں سے اب تک 7 ہزار افراد کی شناخت ہوپائی ہے۔ دریافت کی جانے والی ہر نئی اجتماعی قبر کے ساتھ ہمارے دلوں کو ایک بار پھر جھٹکا لگتا ہے۔

بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کو نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں 2017 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے ان جرائم کا ارتکاب نوے کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی عدالت نے 1995 میں سر برینیکا میں 8000 بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل میں ان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ اہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ راتکو ملادچ اپنی باقی سزا کہاں پوری کرے گا۔ یاد رہے کہ اسے ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سرزمین پر سب سے بڑا قتل عام کہا جاتا ہے۔ ملادچ نے جسے بوسنیا کا قصائی کہا جاتا ہے 1995 میں ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنھوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا میں قتل عام کیا جس میں 7000 بوسنیائی مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیکا آئے تھے

 سربرینیکا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے زخم ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ شہدا کو بھولے اور نہ ہی سانحہ کو بھولیں گے۔ ہم بوسنیائی بھائیوں کیساتھ کیے گئے ظلم کے خلاف انصاف کے حصول کی جستجو میں بوسنیا کے شانہ بشانہ رہیں گے۔ ان مظالم کے باوجود یورپی سیاستدانوں نے سبق حاصل نہیں کیا۔ انکے اسلام دشمنی اور غیر ملکیوں سے عداوت پر مبنی بیانات کا دوام بنی نو انسانوں کے مستقبل کے لیے حد درجے باعثِ خدشات ہے۔ اس جیسے واقعات کا دوبارہ سے سامنا نہ کرنے کے لیے عالمی تنظیموں سمیت ہم سب پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔