سامراج کے لئے سبق

Rana Zahid Iqbal, Daily Nai Baat, Urdu Newspaper, e-paper, Pakistan, Lahore

 2001ء میں نیٹو فورسز نے افغانستان پر حملہ اور قبضہ کیا، وہاں اقتدار طالبان کے ہاتھوں میں تھا۔ افغانستان پر قبضہ سے قبل کسی افغانستان نے ایک گولی تک نہیں چلائی اور نہ ہی کوئی افغان باشندہ کسی امریکی شہری کے قتل میں ملوث تھا۔ طالبان کا صرف اتنا قصور تھا کہ نائن الیون دہشت گردانہ حملوں کے وقت القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سر زمین افغانستان پر موجود تھے۔ امریکہ کے اسامہ بن لادن پر الزام عائد کئے جانے پر طالبان نے امریکہ سے کہا کہ وہ ثبوت اور شواہد پیش کرے۔ طالبان نے یہاں تک رضا مندی کا اظہار کیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ان کے مبینہ جرائم کی پاداش میں مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے ایک تیسرے غیر جانبدار ملک کے حوالے کر دیں گے۔ لیکن طالبان کی اس معقول پیشکش کو نامعقولیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بڑی حقارت کے ساتھ مسترد کر دیا اور پھر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا آغاز کر دیا۔ 21 برس تک افغانستان پر قابض رہنے اور ہزاروں لاکھوں افراد کی اموات و ہلاکتوں کا باعث بننے کے بعد امریکہ کو افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور افغانستان کی اس 21 سالہ جنگ میں امریکہ نے ہر چیز ہار دی اور اس کے بارے میں ساری دنیا میں ناقابلِ تسخیر ہونے کا جو تصور پایا جاتا تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔ طالبان کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو جہاں شدید جانی نقصان برداشت کرنا پڑا وہیں اس کے 82ارب ڈالر بھی ضائع ہوئے۔ اسی طرح برطانیہ نے 30 ارب ڈالر، جرمنی نے 19 ارب ڈالر ہتھیاروں اور دوسرے اخراجات کی مد میں جھونک دیئے، تاہم اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کی شکست سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں ایک بڑی دفاعی اور جنگی حکمتِ عملی سے متعلق تاریخی غلطی کے مرتکب ہوئے۔  

گزشتہ دو تین دہائیوں میں امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے نام پر دنیا میں قہر مچا رکھا ہے لیکن سوچنے کا پہلو یہ ہے کہ کیا اس سے دنیا یا امریکہ کو کچھ فائدہ ہوا یقینا ً جواب نفی میں ہے کیونکہ اگر دیکھا جائے تو امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سپر پاور کا درجہ حاصل کرنے کے بعد جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں ان میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس عرصہ میں امریکہ نے کوریا، ویت نام، خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان میں پانچ جنگیں اور اس کے علاوہ کچھ چھوٹی جنگیں بھی لڑی ہیں لیکن اسے کسی بھی جنگ میں کوئی حتمی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ صرف کسی حد تک عراق، لیبیا میں کہا جا سکتا ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر غیر اخلاقی جنگ میں اسے کچھ فتح حاصل ہوئی ہے۔ شکست ایک الگ چیز لیکن جس طرح کے خوف اور بے بسی کا سامنا  امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکلتے ہوئے کرنا پڑا، ایسی ہزیمت عبرت کا ساماں ہے اور اس چیز نے امریکی شکست کو مزید شرمناک بنا دیا۔ امریکی احساسِ برتری میں مبتلا ہیں دوسرے ممالک کی ثقافت اور مزاج کو نہیں سمجھتے اور قریب سے سمجھنا بھی نہیں چاہتے۔ کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی سرکاری فوج نے طالبان کے سامنے مزاحمت نہیں کی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طالبان کا ایک مقصد تھا جو مذہبی، نسلی اور قوم پرست اپیلوں کا امتزاج تھا، جس چیز نے انہیں طاقتور بنا دیا جب کہ سرکاری فوجیوں کے لئے کوئی ایسی ترغیب نہیں تھی، امریکی فوجی اور وہ اپنے جان بچانے کے لئے لڑ رہے تھے۔ دوسرا یہ کہ ان دو دہائیوں کی جنگ کے دوران امریکہ اور نیٹو کا کنٹرول بڑے شہروں سے آگے نہیں بڑھ سکا جب کہ طالبان نے بیشتر افغانستان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا اور اب جب کہ امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے جا چکی ہیں تو کوئی یہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ اقتدار پر افغان فوج قابض ہو گی اور وہ طالبان کو شکست دینے کی اہل ہو گی یا امریکہ اور بھارت کے الزامات کے مطابق طالبان کو افغانستان میں تسلط حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی مدد درکار ہو گی۔ اس موقع پر یہ بات سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کہ طالبان اتنی طویل جد و جہد کے بعد جب ثمر حاصل کرنے کا موقع میسر ہوا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کے کہنے پر پیچھے ہٹ جاتے یا اتنی بڑی پاور کو شکست دینے کے بعد سرکاری افواج کے خلاف پاکستان سے مدد طلب کر کے اپنی فتح کو مشکوک کرتے۔ ماضی میں بھی افغانستان کئی طاقتور ممالک کا قبرستان بن چکا ہے۔

سوچنے کا پہلو یہ ہے کہ امریکہ کو جو تجربہ افغانستان میں ہوا اس سے یہ امید پیدا کی جا سکتی ہے کہ اب وہ مغربی ایشیا خصوصاً خلیج میں عراق اور اس سے آگے ایران تک اپنی مداخلت کا دائرہ تذویراتی خطوط پر محدود کرنے پر توجہ دے گا۔ صورتحال ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اس لئے یکدم سے کسی ایسی تبدیلی کی امید نہیں کی جا سکتی جو اندیشوں سے کامل نجات دلا دے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ زندگی کے اجتماعی معاملات میں جو لوگ بھول جاتے ہیں کہ محدود فائدے کے لئے اٹھایا جانے والا ہر قدم دوسرے کے نقصان کا دائرہ وسیع کرتا ہے وہی دور تک پھیلے موجودہ حالات کے عملاً ذمہ دار ہیں۔ انہی کی وجہ سے عصری عالمی منظر نامہ محدود خوشحالی اور لامحدود بد حالی کا ترجمان نظر آتا ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر خطے میں اس نوع کے متحارب عناصر بلیم گیم کے ذریعے اپنے مئوقف کو درست گردانتے ہیں۔ اتھل پتھل سے دو چار دنیا کو بزعم خود نیک ہونے کے دعویداروں کی یکطرفہ خواہشوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے ہی عناصر نے سرِ دست دنیا کے ایک سے زیادہ حصوں میں راست اور بالواسطہ تباہی مچا رکھی ہے۔ اس الجھے ہوئے معاملے پر بے لاگ غور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ہر پہلو کا مفصل جائزہ لیا جائے اور ہر فکری اختلاف کو دور کرنے کے لئے ہر طرح کی ضد سے بالاتر ہونے کی کوشش کی جائے۔ طاقتور ممالک کے لئے اس جنگ میں پسپائی کے بعد ایک سبق ہے کہ یہ دنیا کسی خیالی جنت میں تبدیل نہیں ہو سکتی لیکن اسے جہنم بنانے کا بھی کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔