گنبد کی آواز اور انسانی المیہ

گنبد کی آواز اور انسانی المیہ

گنبد کی آواز پلٹ کر کانوں کو ہی آیا کرتی ہے، جو کوئی جیسا عمل کرتا ہے اسی دنیا میں اس کا ٹریلر اس کے ساتھ بدلے میں ضرور دہرایا جاتا ہے۔ بے شک بے گناہ اور معصوم لوگ اس دنیا میں ظلم کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھے گئے۔ بے گناہ قید حتیٰ کہ سزائے موت پا گئے۔ بے گناہ اور معصوم دراصل ظالم کے لیے تختہ مشق ہوتا ہے جو ظالم کے بنیادوں میں اترنے کا بالآخر سبب بنتا ہے کیونکہ مظلوم کا معاملہ اللہ خود دیکھتا ہے۔  سیاسی، سماجی اور حکمرانی کی تاریخ میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا تجزیہ تاریخ کے اوراق کیا کرتے ہیں۔ جہاں کوئی نظام موجود نہ ہو یا نظام بے توقیر ہو جائے وہاں قدرت کا نظام عمل میں ضرور آتا ہے جو بے باک اور اٹل ہوا کرتا ہے۔

ہمارے سامنے ہی عبرتیں بننے والے طبقے اور حکمران ہو گزرے ہیں مگر اجتماعی اور انفرادی طرز فکر ایسا ہے جیسے لوگ کسی مرنے والے کو دفنانے جاتے ہیں قبروں میں سے گزرتے تختیوں اور کتبوں کو پڑھتے ہوئے دفنا کر واپس آ جاتے ہیں مگر سمجھتے ہیں کہ اسی نے اس دنیا سے جانا تھا جس کو دفنانے آئے تھے بعض تو قبر کی جگہ مخصوص کرا کر بھی مرنے کا یقین نہیں کرتے اور اس بات کی گواہی ان کا عمل دیتا ہے۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ذہن میں کچھ اور تھا، قرآن عظیم کی اس آیت مبارکہ میں گم تھا جس کا مفہوم ہے: ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکانے میں وہ عمل میںآ جاتا ہے۔

حالانکہ میں سمجھتا تھا تقدیر کا معاملہ صرف انسانوں کے ساتھ ہے بہرحال اس پر پھر کبھی لکھیں گے کیونکہ اخبار سامنے آ گیا جس کی شہہ سرخی ہے، ’’عمران جے آئی ٹی میں پیش، پوچھ گچھ، دہشت گردی کا مقدمہ مذاق، جتنا تنگ کرو گے اتنا ہی مضبوط ہوں گے۔ پارٹی کو کچلا جا رہا ہے‘‘۔ رہے نام اللہ کا۔ اس خبر پر صرف عمران کے نام پر ہاتھ رکھ لیں باقی بیان چند سال پہلے نوازشریف کا لگتا ہے۔ رات ٹی وی کی خبروں میں جے آئی ٹی میں ملزم عمران خان کو پیش ہونے کے بعد میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر مجھے وہ خبریں اور مناظر یاد آ گئے جب نوازشریف اور مریم نواز، اسحاق ڈار اور شہبازشریف 

بلکہ سارا خاندان باری باری پیش ہوئے اور ہر ایک نے تفتیشی مرحلے سے باہر آ کر میڈیا ٹاک کی البتہ سابق صدر آصف علی زرداری نے کوئی بات نہ کی بقول ان کے وہ کہتے ہیں یہ اکھاڑے ہم نے بہت پچھاڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی فلور پر یہ بھی کہا تھا کہ مجھے اپنا نہیں میں تو نیب، جیل اور عدالت دیکھتا رہتا ہوں اس وقت کا ڈر ہے جب آپ کو دیکھنا پڑے گا، تو آپ کا کیا ہو گا۔ کل نوازشریف اور ان کا خاندان وزیراعظم ہوتے ہوئے جے آئی ٹی کے امتحان سے گزرا آج عمران خان اس مکافات عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا قول ہے کہ انسان کی مصیبتیں اس کی زبان کی وجہ سے ہیں(مفہوم)۔ آپ غور فرمائیں نیازی صاحب پر جو کچھ ہے موصوف کی زبان کا نتیجہ ہے۔ یہی تحفہ اس نے اپنے فالوورز کو دیا ہے۔ جب نیازی صاحب کی حکومت آئی تو خاقان عباسی نے کہا تھا ملک میں کوئی مسئلہ نہیں ہے صرف ان کی زبان کا مسئلہ ہے۔ عمران نیازی پہلے حکمران اور غیر سیاسی سیاستدان ہیں جنہیں اپنے ہی بیانات کا سامنا ہے، بول بول کر انہوں نے سیلاب زدگان کو سیلاب بھلا دیا۔ پشاور کے جلسے میں شرکاء کو  خیال آیا کہ گھر تو بہہ گئے لوگ مر گئے ہم کہاں کھڑے ہیں موصوف کے سامنے ہی جلسہ کی جگہ سے اُٹھ کر چلے گئے مگر دھرنے میں خالی کرسیوں سے خطاب کرنے والے بزرگ غیر سیاسی سیاستدان سیلاب زدگان کو سیلاب کے فوائد بتاتے رہے۔ جن کو لانے والوں نے سمجھا کہ یہ غیر سیاسی ہے بے حسی کی انتہا ہے کہ اس وقت 80 فیصد ملک پانی میں گھرا پڑا ہے، ہزاروں لوگ مر گئے، 3 کروڑ سے زائد بے گھر ہوگئے لاکھوں حاملہ خواتین اور بچے بیمار ہیں۔ ملک ان کے ساڑھے تین سالہ عذاب سے گزر چکا تھا کہ سیلاب نے آ لیا اور موصوف سیاست کر رہے ہیں، رہی بات ان کی مقبولیت کی، میں نے کئی بار لکھا ہے کہ جب سیاست شروع ہوئی آج تو خبروںمیں ہیں سیاست شروع ہونے پر یہ چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ پی ڈی ایم ٹوٹے گا نئے سیاسی اتحاد بنیں گے، پی پی پی اور اے این پی ساتھ ایک اسلامی ٹچ والی جماعت، پی ٹی آئی ق لیگ نمبر2 ایک اسلامی ٹچ والی جماعت، ن لیگ اور ق لیگ نمبر 1 ساتھ ایک اسلامی ٹچ والی جماعت۔ پھر حالات کچھ اور ہوں گے۔ عمران حکومت کے پونے چار سال والی کارکردگی میں صرف کرپشن نمایاں ہو گی تب تک موجودہ حکمرانوں، وفاق اور صوبائی حکمرانوں کے کھاتے میں نیک اور بد اعمالیاں آ چکی ہو ں گی۔ عام آدمی کو معلوم نہیں کہ یہ پیشہ ور لوگ حکومت میں آنے کے بعد ایک گھنٹہ بھی انتظار نہیں کرتے بلکہ پہلے ہی سیٹ اپ تیار ہوتا ہے، کون سے عہدے کس کس کو دینے ہیں سو دیئے گئے اور ہر حکومت نے دیئے۔ نہیں خبر تو اس ملک کے عام آدمی کی کسی کو پروا نہیں۔ میں آج بھی شہبازشریف کی نیت پر بھروسہ کرتا ہوں مگر وہ مصیبت میں ہیں۔ سابقہ حکومت کے پونے چار سال کے بوجھ اور سیلاب کی آمد نے شہبازشریف کو عاجز کر دیا۔ 

اور ستم ظریفی یہ کہ ہمارا مسئلہ سیلاب زدگان نہیں، انصاف کی فراہمی نہیں، خوراک اور پوشاک کی فراہمی نہیں، علاج کی فراہمی نہیں، عام آدمی کو بنیادی حقوق کی فراہمی نہیں بس یہ ہے کہ نیا آرمی چیف کون آئے گا حالانکہ کرہ ارض پر کسی ملک میں آرمی چیف کی تعیناتی موضوع نہیں بنتی مگر یہاں پر بنا دی گئی۔ ہمارا مسئلہ اقتدار ہے، مراعات ہیں اس بات سے بے خبر کہ وہ تو مر گئے اور مرے جا رہے ہیں جن پر تم نے حکومت کرنی ہے۔ وطن عزیز میں سیاست لڈو کا کھیل ہے 99 پہ سانپ ڈسے اور زیرو پہ آ جائے۔ چھوٹے نمبروں سے سیڑھی اٹھائے اور 99 پہ لے آئے ایک نمبر سے اندر یا واپس چھوٹے نمبروں پر، یہ کھیل تو جاری رہے گا مگر بے حسی اور بربادی کو اکٹھا کسی نے آج تک اس طرح عروج پر نہیں دیکھا ہو گا جتنا عروج آج حاصل ہے۔ پہلی بار انتہائی مصیبت میں قوم کہیں متحد  نظر نہیں آتی عمران خان اور اس کے حواریوں نے ایسی خلیج قائم کی کہ حکومت مخالف سمجھتے ہیں یہ سیلاب قومی سانحہ نہیں ملک و قوم پر مصیبت نہیں یہ صرف حکومت پر مصیبت ہے اور اس پر ستم یہ کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت بھی مرکز کی اپوزیشن میں ہیں اور یہ حکومتیں سمجھتی ہیں کہ مصیبت صرف وفاقی حکومت کے لیے ہے۔ عمران اور اس کے فالوورز ملک برباد ہو جائے وہ صرف اس کو حاکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بات سے بے خبر ہیں وطن عزیز میں انسانی المیہ جنم لے چکا اور جنم کبھی ایک دن کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ عمران اور ان کے ساتھیوں پر مقدمات گنبد کی آواز ہیں یہ سننا ہوں گی۔