مساجد اور امام بارگاہوں میں باجماعت نماز، جمعہ اور تراویح کی مشروط اجازت

مساجد اور امام بارگاہوں میں باجماعت نماز، جمعہ اور تراویح کی مشروط اجازت
کیپشن:   Image Source: File Photo

اسلام آباد: مساجد اور امام بارگاہوں میں باجماعت نماز، جمعہ اور تراویح کی مشروط اجازت دے دی گئی۔ صدر مملکت عارف علوی کا علما کرام کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں 20 نکات پر اتفاق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ،  علماء مشائخ کے اجلاس کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا امید ہے مساجد میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی، مساجد، مدارس کو امداد اور زکوٰة دینے کا سلسلہ جاری رکھیں، کورونا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی، اس سال رمضان میں ایک پالیسی بنائی جانی ضروری ہے۔ حکومت اور علما میں طے پانے والے 20 نکات درج ذیل ہیں۔

1۔ مساجد میں دریا ں اور قالین نہیں بچھائی جائیں گی، فرش پر نماز ہوگی۔

2۔ سڑک اور فٹ پاتھ پر نماز تراویح ادا نہیں ہوگی۔

3۔ 50 سال کے عمر کے لوگ اور بچے مسجد میں نماز ادا نہیں کرینگے۔

4۔ نماز کے ساتھ حفظان صحت کا بھی خیال رکھا جائے گا۔

5۔ بیماری کا شکار افراد مسجد نہیں جا سکتے۔

6۔ مسجد کے فرش کو کلورین کے پانی سے دھویا جائے۔

7۔ صف بندی کے دوران نمازی 6، 6 فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوں۔

8۔ دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے۔

9۔ مسجد میں صحن ہو تو وہاں نماز اد ا کی جائے۔

10۔ مساجد میں جائے نماز لے جانے کی اجازت ہوگی۔

11۔ اجتماعی سحری اور افطاری کا اہتمام نہ کریں۔

12۔ وضو گھر میں کر کے اور ہاتھ دھو کر مسجد آئیں۔

13۔ ماسک پہن کر مساجد میں آئیں، کسی سے ہاتھ نہ ملائیں۔

14۔ بہتر یہ ہے گھر پر اعتکاف کریں۔

15۔ حفاظتی تدابیر کے ساتھ نماز تراویح ادا کریں۔

16۔ مسجد اور امام بارگاہ کمیٹی بنائی جائے، جو پولیس کے ساتھ رابطہ رکھے۔

17۔ مساجد کمیٹی لائحہ عمل کو یقینی بنائے گی۔

18۔ مساجد کے منتظمین فرش پر نشان لگائیں گے۔

19۔ اگر حکومت محسوس کرے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا تو فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

20۔ حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ علاقے میں شرائط مزید سخت کر سکتی ہے۔

صدر مملکت عارف علوی ک کہنا تھا عبادات کے ساتھ حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جائے، موجودہ صورتحال میں قوم میں اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔