اسٹیبلشمنٹ تین تجاویز لے کر آئی، کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو: عمران خان 

اسٹیبلشمنٹ تین تجاویز لے کر آئی، کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو: عمران خان 

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو، ہمارے لئے مضبوط فوج بہت ضروری ہے۔ اسٹیبلشمنٹ تین تجاویز لے کر آئی، الیکشن والی تجویز سے اتفاق کیا۔ چیف الیکشن کمشنر کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا تھا۔ 

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان سے متعلق کہا کہ اس کے عہدہ تھا اور نہ ہی کوئی وزارت تھی تو وہ کیسے پیسے لے سکتی ہے؟ اگر کسی کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کرپشن یا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا، کوئی ڈیل کی ہے تو بتائیں، پی ٹی آئی کے سوا کسی جماعت کے پاس فارن فنڈنگ کا ریکارڈ نہیں، ہم نے کوئی فارن فنڈنگ نہیں لی، پارٹی سے نکالے گئے شخص نے غلط کیس کیا، فارن فنڈنگ کیس تمام جماعتوں کے اکٹھا چلائیں۔ 

عمران خان نے کہا کہ میری کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں ہے بلکہ میری اس مافیا سے لڑائی تھی جو قیمتیں اوپر لے جارہی تھی اور میرے خلاف اس وقت سازش ہوئی جب چیزیں ٹھیک ہورہی تھیں۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ سے جو کچھ لیا وہ بھی ریکارڈ پر ہے، ایک غیر ملکی صدر نے گھر آ کر تحفہ دیا وہ بھی جمع کرا دیا۔ ساڑھے تین سال بعد ان کو توشہ خانہ ملا ہے تو یہ اللہ کا احسان ہے، توشہ خانہ سے چیزیں 50 فیصد قیمت ادا کر کے خریدیں، ہم نے توشہ خانہ کی چیزوں کی قیمت 15 سے بڑھا کر 50 فیصد کی۔ 

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے ملک کو نقصان ہو، ہمارے لئے مضبوط فوج بہت ضروری ہے، میں اس لئے نہیں ول رہا کہ مضبوط متحد فوج پاکستان کی ضرورت ہے، ہم مسلمان ملک ہیں اور مضبوط فوج ہماری سلامتی کی ضامن ہے۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ روس کے دورے کے معاملے پر فوج آن بورڈ تھی، روس جانے سے پہلے جنرل باجوہ کو فون کیا جس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ ہمیں روس جانا چاہئے۔ اسٹیبلشمنٹ تین تجاویز لے کر آئی، الیکشن والی تجویز سے اتفاق کیا، میں استعفے اور تحریک عدم اعتماد کی تجویز کیسے مان سکتا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا تھا لیکن الیکشن کمشنر کا انتخاب آزاد باڈی کو کرنا چاہئے۔ 

انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کو ٹکٹ دے کر سبق سیکھا ہے کہ اتحادی نہیں ہونے چاہئیں۔ گزشتہ انتخابات میں ٹکٹوں پر توجہ نہیں دی تھی لیکن اس بار ٹکٹس خود دیکھ کر دوں گا اور کسی الیکٹ ایبل کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور 24 ارب کی تفتیش کرنے والوں کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف ابھی سے انجینئرنگ کر رہا ہے، یہ اپنے افسران لگا کر میچ فکس کریں گے، یہ کوشش میں ہیں نواز شریف کے کیس ختم ہوں، یہ نیب اور ایف آئی اے سے مقدمات ختم کرائیں گے۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک بار پھر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کو غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، یہ ریفرنس اس وقت وزارت قانون کی جانب سے بھیجا گیا تھا، وزیر قانون نے جسٹس قاضی کے مختلف فلیٹس اور اثاثوں پر بریف کیا تھا، ہمیں غیر ضروری طور پر عدالتی محاذ آرائی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ 

مصنف کے بارے میں