کابلی پلاؤ……

Ali Imran Junior, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

دوستو، کابلی پلاؤ کا جب بھی نام سنتے ہیں، یقین کریں ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ڈش افغانستان کے دارالحکومت کابل کی سوغات ہے۔۔اتوار کو کابلی پلاؤ کھانے کے لئے کراچی کے معروف علاقے سہراب گوٹھ میں الآصف اسکوائر کا رخ کیا، ابھی پلاؤ کی محفل ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک دوست نے نعرہ لگایا کہ کابل میں طالبان داخل ہوگئے اور افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے۔۔اسی خوشی میں افغان بوٹیاں بھی منگوالیں اور ساتھ ہی ٹھنڈی ٹھنڈی ”کولڈ ڈرنکس“۔۔۔ یہ محفل رات گئے تک چلی۔۔اور افغانستان، طالبان پر شرکا اپنے اپنے خیالات سے نوازتے رہے، ہم چونکہ ”جونیئر“ ہیں اس لئے ہم سب کے سامع تھے۔۔ ہر تجزیہ کار کا زوربیان ہمیں سمجھانے پر لگا ہوا تھا۔۔ لیکن اب یہ بات بھی طے ہوچکی ہے کہ اگلے سال پندرہ اگست کو ہمارے دوپڑوسی اپنا جشن آزادی منائیں گے۔۔

ال آصف اسکوائر۔۔ جب ہم پہنچے تو دور دور تک بندہ نہ بندے کی ذات۔۔ ہرطرف ”خان ہی خان“ نظر آرہے تھے۔۔ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے یہ جگہ کراچی سے ذرا مختلف ہے۔ یہاں پینٹ شرٹ میں ملبوس بہت ہی کم لوگ دکھائی دیئے۔ صنف نازک کا تو نام نشان ہی نہیں تھا۔مشہور ہے کہ ”کابلی پلاؤ“ ازبکستان کی سوغات ہے،اس کی اصل جگہ ازبکستان کا شہر ثمر قند اور بخارا ہے۔ یہ افغانستان، سعودی عربیہ اور پاکستان میں بھی یکساں مشہور ہے۔ کابلی پلاؤ پکانے میں تقریباً چھ گھنٹے لگتے ہیں۔ شیف صبح سویرے چھ بجے اٹھ کر پکانے کی تیاری شروع کرتے ہیں، جس میں پہلا کام چاول کو پانی میں دو گھنٹے تک بھگونا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بیف کو تیار کیا جاتا ہے کیونکہ اوریجنل کابلی پلاؤ بیف یا مٹن کے ساتھ ہی پکایا جاتا ہے۔تاریخ کے اوراق میں درج ہے کہ جدید پلاؤ، جس کو کچھ کتابوں میں ’فولاپ‘ یا ’پیلاؤ‘ بھی لکھا گیا، بہت پرانا ہے اور بعض مورخین اس کو دسویں صدی میں ایک مسلمان سائنس دان ابن سینا کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ بہت سے تاریخ دان دسویں صدی میں مسلمان سائنس دان ابن سینا کو جدید پلاؤ کے طریقہ کار کا موجد سمجھتے ہیں اور انہیں جدید پلاؤ کا ’باپ‘ بھی کہا جاتا ہے۔یہ پکوان شاہی خاندانوں کی میزوں اور غریبوں کی جھونپڑیوں میں بھی ملتا تھا۔ بعد میں یہ وسطی ایشیا سے فارسی علاقوں میں 

منتقل ہوا، جس کا نام کابلی پلاؤ رکھا گیا اور اس کے بعد یہ ایشیا کے دیگر ممالک میں مشہور ہوگیا۔پاکستان میں اب پلاؤ تمام چھوٹے بڑے شہروں کے ہوٹلوں میں دستیاب ہوتا ہے، جن کے پکانے والے زیادہ تر وہی افغان مہاجرین ہیں جو افغان ’جہاد‘ کے بعد یہاں آکر قیام پذیر ہوئے۔

کابلی پلاؤ ٹوٹل نمکین نہیں ہوتا، بلکہ اس میں موجود ڈرائی فروٹس اور گاجر کی وجہ سے یہ ہلکا،ہلکامیٹھا بھی لگتا ہے۔۔بات جب میٹھے کی ہوتو آج کل شوگر کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، ہمارے اکثر احباب کو شوگر ہوچکی ہے اوروہ پھیکی چائے پیتے ہیں، مٹھائی،جلیبیوں اور اسی طرح کی دیگر مٹھاس سے پرہیزکرتے ہیں۔اپنی خوراک سے شوگر کو نکال دینے سے کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ آسٹریلوی ماہر ریچل ایٹرڈ نے اس سوال کا کچھ ایسا جواب دے دیا ہے کہ آپ شوگر کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کر لیں گے۔ ریچل ایٹرڈ کا کہنا ہے کہ شوگر کا استعمال چھوڑنے کے محض ایک ہفتے کے بعد ہی آپ کو اس کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں، آپ کے جسم میں انفلیمیشن کم ہوجاتی ہے، آپ کی جلد صاف ہونی شروع ہو جاتی ہے اور آنکھیں بھی چمکدار ہو جاتی ہیں، آپ کے جسم کو توانائی کی فراہمی مستحکم ہونے لگتی ہے اور آپ کا موٹاپا کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔شوگر کا استعمال ترک کرنے سے آپ کے پیٹ پر چربی ختم ہوتی ہے، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اورا سٹروک وغیرہ جیسے عارضوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور آپ میں بڑھاپے کا پراسیس سست ہو جاتا ہے۔ شوگر ترک کرنے کے ایک سال کے اندر آپ کو اس کے تمام تر فوائد حاصل ہو جاتے ہیں اور اسے چھوڑنے سے جو وقتی مضر اثرات ہوتے ہیں، ان سے آپ کو لگ بھگ نجات مل جاتی ہے۔ ریچل نے بتایا کہ ”شوگر چھوڑنے سے جو قلیل اور طویل مدتی مضر اثرات صحت پر مرتب ہوتے ہیں ان میں ذہنی پریشانی، بے سکونی، نروس ہونا اور صبروبرداشت کا کم ہونا ایسے مضر اثرات ہیں جو شوگر چھوڑنے کے پہلے ہفتے میں لاحق ہوتے اور ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موڈ میں تبدیلی، شوگر کی طلب، سردرد، متلی، کمزوری، پٹھوں میں درد وغیرہ جیسے مضر اثرات بھی آتے ہیں تاہم یہ بھی تین سے چار ہفتوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔

ہم نے ساڑھے چار سال لاہور بھی گزارے ہیں، ایک روز فردوس مارکیٹ کے قریب ایک ہوٹل پر ایک خان صاحب اور ایک مقامی نوجوان کو آپس میں بحث کرتے دیکھا تو کان ان کی جانب لگا دیئے، لاہوری نوجوان خان صاحب سے پوچھ رہا تھا۔۔ خان زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں یا پنجابی؟ خان نے مونچھ کو تاؤ دے کر کہا، سیدا سابات ہے پٹان زادہ سمجھ والی ہوتی ہے، لاہوری نے پوچھا،کیسے؟ خان صاحب بولے، پورا تاریک(تاریخ)پٹانوں کے کارنامہ سے بھرا ہوا اے۔ پاکستان کا پہلا وزیراعظم لیاقت علی خان، پہلا صدر ایوب خان، ایٹم بم کس نے بنایا،ڈاکٹرقدیرخان نے، ورلڈ کپ عمران خان نے، اسکوائش میں جہانگیرخان اور جان شیرخان ہزار بار جیتا۔ اب تم بتاؤ پٹان سمجھدار ہے یا پنجابی؟ لاہوری نوجوان مسکرا کربولا۔۔ یار تہانو پچھلے ستر سالان تو کم لایا ھویا اے تے آپاں آرام کر رے آں۔ تے فیر سمجھدار کیڑا ھویا -؟؟ایک خان صاحب نے روزہ رکھا،دوپہر کو بھوک اور پیاس برداشت نہ ہوئی، ایف ایم ریڈیو پر فون کیا، میزبان نے پوچھا آپ کیا سننا پسند کریں گے؟ خان صاحب جلدی سے بولے۔۔مغرب کی اذان چلادو۔۔ ریس دیکھتے ہوئے ایک خان صاحب نے اپنے ساتھ بیٹھے بندے سے پوچھا انعام کس کو ملے گا؟۔۔ اس نے کہا۔۔سب سے آگے والے کو۔۔ خان صاحب معصومیت سے کہنے لگے۔۔تو یہ پیچھے والے کیوں دوڑ رہے ہیں۔۔ایک خان جراسک پارک فلم دیکھ رہا تھا فلم میں ڈائینو سارس اسکرین کی طرف دوڑا تو خان صاحب نے جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف دوڑ لگادی۔۔ اس کے دوست نے اسے کہا کہ۔۔ ”بیوقوف ڈر کیوں رہے ہو یہ تو صرف فلم ہے“۔۔خان نے بڑی متانت سے جواب دیا۔۔ ”مجھے بھی پتہ ہے کہ یہ فلم ہے مگر اسے کیا پتہ وہ تو جانور ہے۔“۔۔ایک خان صاحب قصہ سنارہے تھے کہ جب وہ چھوٹے سے تھے تو مینار پاکستان سے نیچے گرگئے، ہم نے حیرت سے پوچھا۔۔پھر تم مرگئے یا بچ گئے؟؟ وہ معصومیت سے کہنے لگا۔۔ہم کویاد نہیں، ہم اس وقت بہت چھوٹا تھا۔۔کسی نے ایک خان صاحب کو ٹوکا۔۔اوئے تمہارے چھوٹے بھائی کی مونچھیں ہیں اور تمہاری نہیں؟۔۔وہ بولا۔۔ ”اس میں حیرانی کی کیا بات ہے وہ باپ پہ گیا ہے اور میں ماں پر۔“

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ افغانستان کی تازہ صورتحال کے بعد بھارت کی حالت اس وقت گلی میں کھیلتے اس بچے کی طرح ہے جو دو طاقتوں کی لڑائی میں خواہ مخواہ چپیڑیں کھا کر واپس آ جاتا ہے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔