افغانستان میں طالبان کی فتح

Mamoona Hussain, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

نظریہ توحید ایک ایسا نظریہ ہے جو دُنیا کے مروجہ،اجتماعی،سیاسی،معاشی،اور نظام پر تیشہ بن کر گرتا ہے۔توحیدی معاشرہ میں کسی قسم کے طبقات نہیں ہوتے اور نہ ہی کوئی نظام،سیاسی، معاشی،تعلیمی اور معاشرتی،طبقاتی خطوط پر استوار کیا جاتا ہے ایسا نظام یکساں اور انصاف پہ مبنی ہوتا ہے۔20  سال کے بعد طالبان نے دُنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست دی جن کے پاس دُنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ بھی موجود تھا۔میں نے کئی ایسے طالبان بھی دیکھے جنہوں نے اپنے جوتوں کو رسی کے ساتھ باندھا ھوا تھا۔  صرف کیا تھا کہ اُن کے پاس جذبہ ایمانی اور ایمان کی طاقت تھی جس سے بڑی بڑی سُپر پاور کو مات دی اور ثابت کیا کہ اگر کوئی سُپر پاور ہے تو وہ صرف خُدا کی ذات ہے۔علامہ خادم رضوی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک بات یاد آرہی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ سامنے والا جتنا مرضی طاقتور ہو  جس کے پاس جذیہ ایمانی کی طاقت ہے تو منٹ 5ہی لگتے ہیں کہ سامنے والا ریت کی دیوار ثابت ہو۔جب امریکہ اپنی فوجیں واپس بُلا رہا تھا تو اندازہ ہو رہا تھا کہ طالبان افغانستان میں فتح حاصل کر لیں گے تب بہت سے لفافہ صحافی،تجزیہ کاروں کے تجزیے اور قیاس آرائیاں یہ تھیں کہ افغانستان میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان خون ریزی اور خانہ جنگی ہوگی۔

کیونکہ افغان فورسز نیٹو اور امریکہ سے تربیت یافتہ تھے اور وہ امریکہ کے زیر اثر تھے۔مگر افغان فورسسز طالبان کے آگے تو ریت کی دیوار ثابت 

ہوئے اُنہوں نے نہ صرف طالبان کے آگے خود کو سرنڈر کیا بلکہ اپنا اسلحہ بھی طالبان کے حوالے کر دیا۔لیکن موجودہ تمام صورتحال کو اگر ہم دیکھیں تو اُن لفافہ صحافیوں کے سب کے سب تجزیے یکسر غلط ثابت ہوئے۔امریکہ کو جو مات ہوئی اس بات کی تو اُنہیں تکلیف ہوئی مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف انڈیا کو ہوئی۔انڈین میڈیا اس وقت طالبان کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ وہاں عام لوگ  اور عورتیں غیر محفوظ ہیں۔تو ایک بات یاد رکھیے کہ طالبان نے تو سب کے تحفظ کا ذمہ لے لیا ہے اور عام معافی کا اعلان کر دیا۔اُنہوں نے عام افغانیوں کو کہا کہ وہ اپنے اپنے کاروبار کھولیں،اور اپنی زندگی پُر امن طریقے سے گزاریں۔جو لوگ اپنی دُکانیں چھوڑ کر کابل سے جا رہے تھے تو اُن کے پیچھے لوٹ مار کرنے والے5افراد کو فوری طور پر پکڑا اور اُنہیں سزا دی کہ وہ  ناجائز کام کر رہے تھے طالبان تو فوری ایکشن لے رہے ہیں۔وہ کابل ہو یا افغانستان کا کوئی بھی شہر ہو وہ بد امنی نہیں چاہتے۔

اب لوگوں کا یہ خیال ہے کہ طالبان کی افغانستان میں حکومت ہونے کی وجہ سے پاکستان غیر محفوظ ہوگا مگر میں اُن لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ نائن الیون سے پہلے افغانستان میں طالبان کی جب حکومت تھی پاکستان اور طالبان کے تعلقات بہت اچھے تھے سرحد بھی محفوظ تھی۔سرحد پر کوئی باڑ بھی نہ تھی۔لیکن جب نائن الیون ہوا تو افغانستان کے خطے پر امریکہ، اسرائیل، اور انڈیا نے ڈیرے ڈال لیے اور انڈیا نے تو بہت بڑی فغانستان میں انویسٹمنٹ بھی کی۔انڈیا نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو توڑنے کا خواب دیکھنے لگا۔انڈیا نے بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کو افغانستان میں تربیت بھی دینے لگا اور وہ علیحدگی پسند تنظیمیں پاکستان میں آکر انارکی پھیلاتیں، اس سے پاکستان کے اندرونی حالات بھی خراب ہونے لگے۔2002 سے لے کر 2015  تک پاکستان میں دہشت گردی عروج پہ رہی اور بے شمار بم دھماکے ہوتے رہے۔

وہ علیحدگی پسند تنظیمیں جن کو انڈیا کی سپورٹ حاصل تھی ان کے شرپسند پاکستان میں آکر پاک آرمی پر حملے بھی کرتے رہے۔اور پاکستان کے کئی جوان شہید بھی کیے۔دوسری طرف بھارت اور امریکہ افغان فورسز کا استعمال پاکستان کے خلاف کرتا رہا۔ افغان فورسز نے کئی بار افغان بارڈر پر پاکستان آرمی پر حملے بھی کئے۔اب بھارتی میڈیا جو چیخ و پکار کر رہا ہے اصل میں بھارت اپنے عزائم کو پورا نہ کر سکا اور انڈیا کا پاکستان توڑنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔اب پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے تو طالبان کی حکومت کو ویلکم کیا ہے اور پاکستانی حکومت ابھی سوچ بچار میں ہے کہ اب وہ طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرتی ہے اور ایک نہ ایک دن تو پاکستان کو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ یاد کیجئے جب ملا عمر کے دور میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی اچھے تھے۔طالبان کا مقصد خطے میں ایک اسلامی اور شرعی نظام کا نفاذ ہے۔جب اللہ ہی قادر مطلق ہے تو کسی پر ظلم و ستم کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایک توحیدی معاشرہ کا دارومدار عدل و احسان،احترام آدمیت، اخوت، انسانی اخلاق اور رواداری ہی ہے اور یہی نظام ہی معاشرے کے لیے بہتری اور فلاح کا راستہ ہے۔