طالبان کی دوبارہ آمد اور خدشات

Hameed Ullah Bhatti, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

طالبان کا افغانستان پر غلبہ حیران کُن نہیں کیونکہ ملک کی داخلی صورتحال اور امریکہ و نیٹو کی عجلت میں روانگی سے امکان تھا کہ طالبان دوبارہ آسکتے ہیں مگر اتنی جلدی تین لاکھ سے زائد فوج پسپا ہو جائے گی توقع سے بڑھ کر تیزی سے ایسی ناکامی پھربھی کسی کے وہم وگمان میں نہ تھی اسی لیے دنیا ششدر ہے صدر اشرف غنی،امر اللہ صالح اور حمداللہ محب جیسے لوگ فرار ہو چکے ہیں اور فرار کی وجہ ملک کو قتل وغارت سے بچانابتاتے ہیں حالانکہ سچ یہ ہے کہ کابل کے نواح میں طالبان کے آنے کی خبر سنتے ہی فوج تتر بتر ہو گئی تھی کیونکہ لڑائی سے قبل ہی طالبان نے نفسیاتی کامیابی حاصل کر لی تھی حملہ آوروں سے کچھ سرداروں کی ساز بازکابھی پسپائی میں اہم کردار ہے اِس لیے قتل وغارت سے بچنے کی بات میں صداقت نہیں کچھ واقفان احوال حلقوں کا کہنا ہے کہ کابل میں داخلہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے ایسا بعید ازقیاس بھی نہیں کیونکہ فوجیوں کی طرف سے طالبان کو اسلحہ بیچنے کی پاداش میں ہونے والی گرفتاریوں کے واقعات ہوتے رہتے ہیں فوج اور حکومت میں شامل طالبان کے ہمدرد عناصرکی طرف سے سہولت کاری ممکن ہے علاوہ ازیں طالبان کے خوف کا بھی فوج کی پسپائی میں اہم حصہ ہے مگر بے یقینی اور بے چینی ملک کو مستقبل میں بدامنی کی طرف دھکیل سکتی ہے قبل ازیں امریکی و نیٹو افواج کے حملوں سے بچنے کے لیے طالبان نے بھی عارضی طور پر پسپائی اختیار کی تھی لیکن جو نہی موقع ملا چڑھائی کرنے میں تاخیر نہیں کی اس لیے مستقبل میں خونریزی کے خدشات مکمل طور پر رَد نہیں کیے جا سکتے۔

کابل سمیت ملک کے 34میں سے 32 صوبوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے مکمل فتح کا اعلان کرتے ہوئے مبارکبادی پیغام جاری کر دیا ہے امن و امان یقینی بنانے کے لیے کچھ تعیناتیاں کرتے ہوئے اسلحہ کی واپسی بھی شروع کر دی ہے اورطالبان پر گھروں میں داخل ہونے پر پابندی لگادی ہے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے لیکن کابل میں بے چینی ختم نہیں ہو رہی ایئرپورٹ پر ملک سے نکلنے کے لیے لوگوں کا ہجوم ہے جوطیاروں میں سوار ہونے کے لیے گولیاں کھارہے ہیں اور سوار ہونے کے لیے موقع نہ ملنے پر طیاروں سے لٹک کر بیرونِ ملک جانے جیسے خطرات مول لینے سے دریغ نہیں کر رہے حامد کرزئی اور اشرف غنی حکومت کا ساتھ دینے والے طالبان کے آنے سے متوحش ہیں اور عام معافی کے اعلان کے باوجود مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں بینکوں سے رقوم نکلوانے کے لیے لمبی قطاریں، ایئرپورٹ پر بیرونِ ملک جانے کے لیے دھکم پیل اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے ہونے والی پانچ ہلاکتیں اور طیاروں سے گرنے کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح کابل کی فضا طالبان کے لیے ناہمواراورخدشات برقرار ہیں لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انھیں رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔

قومی فوج کے منظر نامے سے غیاب پر امریکی خاصے تلملائے ہوئے ہیں تربیت واسلحہ سے لیس کرنے پر ہونے والے اخراجات کا تذکرہ جاری ہے اِس میں شک نہیں کہ بیس سالہ افغان جنگ کے دوران امریکہ نے کم ازکم دو ہزار ارب ڈالر خرچ کیے جبکہ بھارت جیسا جنونی ملک بھی تعمیر وترقی کے نام پر چار سوارب روپے جھونک چکا ہے مگر دونوں کی تمنا افغانستان کی بہتری نہیں تھی اسلامی نظام کے نفاذسے روکنے کے علاوہ اول الذکر کا مقصد افغان معدنیات پر ہاتھ صاف کرنااور چین پر نظر رکھنا تھا جبکہ ثانی الذکرکو محض پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لیے محفوظ سرزمین درکار تھی بیرونی حملہ آوروں کو افغانستان سے مفاد پرستوں کا ساتھ مل گیا کچھ وارلارڈز نے افرادی قوت مہیاکر دی لیکن متحارب فریق کے ساتھ عام سویلین آبادی کو بمباری کا نشانہ بنانے سے موجود نفرت میں اضافہ ہوتا رہا نیز طالبان اسلامی نظام کے نفاذ اور ملک آزاد کرنے کے علمبردار جبکہ مقابلے پر حملہ آور اور اغیار کے رفقا محض مال ودولت کے آرزومند۔ جب طالبان کی پیش قدمی پر حکومتی صفوں میں سراسمیگی پھیلی تو فوج نے کرپٹ عناصر کی حفاظت کرتے ہوئے جان دینے کے بجائے جان بچانے کو ترجیح دی لیکن یہ نہیں بھولناچاہیے کہ ملک کی حد تک طالبان کا کنٹرول درست مگرکابل ایئرپورٹ بدستور امریکی وبرطانوی افواج کے پاس ہے جو محفوظ انخلا میں رکاوٹ بننے کی صورت میں سخت ردِ عمل کا عندیہ دے رہی ہیں اِس لیے ناخوشگوار صورتحال کاامکان موجود ہے۔

اشرف غنی کے فرار کے بعد افغان رہنماؤں نے عبداللہ عبداللہ،حامد کرزئی اور حکمت یار پر مشتمل رابطہ کونسل بنا کر سنبھلنے کی کوشش کی جسے طالبان نے تسلیم نہیں کیا احمد الجلالی کو عبوری حکومت کا سربراہ بنانے کی تجویز پر بھی غور ہوا مگرایک اور کٹھ پتلی سربراہ بنانے پرطالبان رضا مند نہیں ہو سکتے حقیقی امن کے لیے تمام لسانی و سیاسی گروپوں کی شمولیت سے جامع سیاسی تصفیہ ناگزیر ہے لیکن بیس برس میں بوجہ ایسا نہیں ہو سکا کبھی حامد کرزئی نے رکاوٹ ڈال دی کبھی بھارت نے مذاکرات کے دوران ملا عمر کی وفات کا اعلان کرکے جاری بات چیت ختم کرادی کبھی ڈرون سے طالبان کے امیر کو نشانہ بنا کر تصفیے کے امکانات ختم کردیے اب توطالبان فاتح ہیں وہ شکست خوردہ عناصر سے کیونکر برابری کی سطح پر بات کریں گے؟ زیادہ امکان یہی ہے کہ امارت الاسلامی کو تسلیم کرنے پرہی زور دیں گے جب ستر ہزار طالبان لاکھوں پر مشتمل فوج ودیگر قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے اہلکاروں کو دھول چٹا چکے تو اب انھیں کسی اور کی کیا پروا ہے؟۔

طالبان کی دوبارہ آمد سے مختلف افغان طبقات کو ہی خدشات لاحق نہیں بلکہ اقوامِ عالم کے بھی تحفظات ہیں خواتین کی تعلیم اور سفارتکاروں کے تحفظ کی یقین دہانی کے باوجود خدشات و اندیشے ختم نہیں ہو سکے۔طالبان قیادت سے راہ و رسم بڑھانے کے لیے کچھ ممالک کی طرف سے روابط کا آغاز ہو چکا ہے روس نے سفارتخانہ بند کرنے کے بجائے طالبان کی نئی حکومت سے اپنے سفیر کو ملاقات کرنے کی ہدایت کی ہے کسی دہشت گرد تنظیم کو سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی یقین دہانی کرانے پر چین بھی تعلقات قائم کرنے کا آرزو مند ہے جبکہ پاکستان محتاط ہے وجہ شاید ماضی میں بھارتی ایما پر تحریکِ طالبان کے پاکستان کو  لگائے چرکے ہیں ملا عبدالغنی برادر سے پاکستان میں ہونے والا سلوک بھی شاید گرمجوشی کی راہ میں رکاوٹ ہے باخبر حلقوں کے مطابق بائیڈن انتظامیہ بھی طالبان سے رابطے میں ہے اور القائدہ و داعش کو افغانستان میں ٹھکانہ نہ دینے کے عوض کسی مشترکہ مسودے کی تیاری پر کام کر رہی ہے کیونکہ زیادہ تاخیر اُسے افغان معاملات میں غیر اہم بنا سکتی ہے اِس لیے برطانیہ لاکھ تسلیم کرنے سے انکار پر زور دے مجبوراً ہی سہی طالبان کو تسلیم کرنے کی طرف دنیا کو آنا پڑے گا۔

عالمی برادری اور افغانوں کا اعتماد بحال کرنے، انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات کو دور کرنے اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات ناگزیر ہیں طویل خانہ جنگی کا شکار ملک میں اگر طالبان امن قائم کر لیتے ہیں تو نہ صرف عالمی برادری کااعتماد بڑھے گا بلکہ سی پیک کا اگلا مرکز بھی افغانستان ہو سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ ایک وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل سے اجتناب نہ کیا جائے۔