مینار پاکستان میں پیش آنے والے واقعہ کی ایف آئی آر کاٹی جا چکی، ملزمان کی نشاندہی جاری ہے: فیاض الحسن چوہان

مینار پاکستان میں پیش آنے والے واقعہ کی ایف آئی آر کاٹی جا چکی، ملزمان کی نشاندہی جاری ہے: فیاض الحسن چوہان
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: پنجاب حکومت کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ 14 اگست کو مینار پاکستان میں ٹک ٹاکر لڑکی کیساتھ پیش آنے والے انتہائی شرمناک اور بہیمانہ واقعے کی ایف آئی آر کاٹی جا چکی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ 

فیاض الحسن چوہان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں لکھا ’واقعے کی ایف آئی آر کاٹی جا چکی ہے اور ویڈیو کی مدد سے ملوث ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر ملزمان کو سخت سزا دی جائے گی۔ حکومت ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔‘ 

ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے دست درازی کا واقعہ انتہائی شرمناک اور بہیمانہ فعل ہے، اسلامی اقدار کے حامل ہمارے مشرقی معاشرے میں خواتین عزت و احترام کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ چند سو افراد کے قبیح فعل نے پورے معاشرے کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔‘ 

فیاض الحسن چوہان نے متاثرہ لڑکی سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔ انہوں نے لکھا ’ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان کا گریٹر اقبال پارک واقعے کی متاثرہ لڑکی سے فون پر رابطہ، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر متاثرہ لڑکی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس معاملے میں حکومت کا مکمل تعاون آپ کے ساتھ ہے۔ فیاض الحسن کی متاثرہ لڑکی کو یقین دہانی۔‘ 

ترجمان پنجاب حکومت نے واقعے میں ملوث چند افراد کی تصاویر بھی شیئر کیں اور لکھا ’گریٹر اقبال پارک واقعے میں ملوث ان کرداروں کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دی گئی ہے۔ پولیس حکام نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی مدد سے سائنٹیفک طریقے سے ان سمیت تمام افراد کو ٹریس کر رہی ہے۔‘