توشہ خانہ ریفرنس، الیکشن کمیشن کا عمران خان کو ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم 

توشہ خانہ ریفرنس، الیکشن کمیشن کا عمران خان کو ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم 

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر راجہ کی سربراہی میں5 رکنی کمیشن نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی جس دوران درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا اور حکومتی اتحاد کی جانب سے وکیل خالد اسحاق پیش ہوئے جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جگہ ان کے معاون وکیل بیرسٹر گوہر پیش ہوئے۔ 

معاون وکیل بیرسٹر گوہر نے استدعا کی کہ بیرسٹر علی ظفر مصروفیت کے باعث نہیں آ سکے، لہٰذا سماعت ملتوی کی جائے جبکہ عمران خان اب رکن اسمبلی بھی نہیں رہے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کاغذوں میں عمران خان اب بھی رکن اسمبلی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن استعفے منظور نہیں کر رہا۔ دکھا دیں اگر سابق ڈپٹی سپیکر نے کوئی استعفیٰ بھیجا ہو۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کمیشن کو استعفیٰ منظور کر کے نہیں بھجوایا، آپ اپنی مرضی کی تشریح نہ کریں، جب تک سپیکر کی جانب سے استعفیٰ منظور کر کے نہ بھیجا جائے رکن ڈی نوٹیفائی نہیں ہو سکتا۔ 

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ عمران خان رکن اسمبلی نہیں ہیں اس لئے انہیں نوٹس جاری نہیں ہو سکتا، کوئی رکن اسمبلی استعفے کا اعلان کر کے ایوان میں نہ جائے تو استعفیٰ منظور تصور ہوتا ہے، سپیکر کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس 24 اگست کو مقرر ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر گوہر خان سے کہا کہ کمیشن میں قانونی بات کریں باقی گفتگو ٹی وی پر کیا کریں۔ استعفیٰ منظورکرنے کے حوالے سے بیانات بھی نہ دیا کریں ۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے وکیل کو دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 22 اگست تک ملتوی کر دی۔ 

مصنف کے بارے میں