مذہب کی جبری تبدیلی کا بل: اسمبلی ممبران کی سیکیورٹی سخت

مذہب کی جبری تبدیلی کا بل: اسمبلی ممبران کی سیکیورٹی سخت

کراچی: سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ نے محکمہ داخلہ سندھ اور انسپیکٹر جنرل آف پولیس( آئی جی)سندھ سے کہا ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے خلاف قانونسازی میں حصہ لینے والے 3 صوبائی وزراء اور 3 سرکاری افسران سمیت 13 اسمبلی ممبران کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

خیال رہے کہ سندھ اسمبلی نے گزشتہ ماہ متفقہ طور پر فوجداری قانون کے تحت اقلیتوں کے تحفظ کا نجی ترمیمی بل 2015 منظور کیا تھا، جس کے تحت مذہب کی جبری تبدیلی میں ملوث پائے گئے افراد کے لیے سزائیں اور نابالغ افراد کے مذہب تبدیل کرنے پر بندش عائد کردی گئی تھی۔

بل پاس ہونے کے بعد کشیدہ صوررتحال بن جانے کے باعث سندھ پولیس کی اسپیشل برانچ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک خط میں صوبائی اسمبلی ممبران کی زندگیوں کو خطرے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اسپیشل برانچ کی جانب سے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ بل پاس ہونے کے بعد اسمبلی ممبران اور خصوصی طور پر مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق بل میں اہم کردار ادا کرنے والے سندھ اسمبلی کی اقلیتوں سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

خبر مزید اپ ڈیٹ کی جارہی ہے۔