اقتصادی راہداری کسی کے خلاف سازش نہیں، ہر صوبے کو پورا حصہ ملے گا، احسن اقبال

اقتصادی راہداری کسی کے خلاف سازش نہیں، ہر صوبے کو پورا حصہ ملے گا، احسن اقبال

اسلام آباد:  وقاقی وزیر برائے منصبوبہ بندی وداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سی پیک سے ہر صوبے کو پورا حصہ ملے گا، اقتصادی راہداری کسی کے خلاف سازش نہیں، دنیا کا ہر ملک سی پیک سے فائدہ اٹھا سکتا ہے پاک چین تجارت میں ڈالر کے بجائے چینی کرنسی کے استعمال پر غور کررہے ہیں کیونکہ اس طرح بار بار کرنسی تبدیل نہیں کرنا پڑے گی۔


اسلام آباد میں سی پیک لانگ ٹرم پلان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستانی طلبا کو پی ایچ ڈی کے لیے یونیورسٹیوں میں داخلے دینے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی اور کرنسی استعمال نہیں ہوگی تاہم پاک چین تجارت میں ڈالر کے بجائے چینی کرنسی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں تجارت سے بار بار کرنسی تبدیل نہیں کرنا پڑے گی۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی فی کس آمدن 1980 میں 3 ڈالر جب کہ چین کی 200 ڈالر تھی، آج پاکستان کی 1600 اور چین کی 8000 ڈالر ہے، ترقی کے لیے ہمیں چین سے سبق حاصل کرنا چاہیے جب کہ سی پیک طویل المدتی پلان کے باعث پاک چین اسٹریٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہوچکا ہے. احسن اقبال نے کہا کہ طویل مدتی منصوبے کا مقصد ہمارے شہریوں کو اجتماعی طور پر اعلی معیار زندگی فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ منصوبہ پاکستان میں صنعتوں اور شہروں کو جدید سہولیات کی فراہمی کا عمل تیر کرے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین نے سی پیک کے تحت چھیالیس ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں اور اب تک ستائیس ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری یا تو زمینی سطح پر عملدرآمد کے مرحلے میں ہے یا اس کیلئے فنڈز حاصل کرلئے گئے ہیں۔ یہ حالیہ دور کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اتنے قلیل وقت میں دونوں ممالک کے درمیان اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی گئی ہے.