سعودی وزارت محنت کا مدینہ منور ہ میں درجنوں پیشوں میں سعودایزیشن کرنے کا فیصلہ

سعودی وزارت محنت کا مدینہ منور ہ میں درجنوں پیشوں میں سعودایزیشن کرنے کا فیصلہ
فوٹو بشکریہ وزارت محنت سعودی آففیشل فیس بک پیج

مدینہ منورہ : سعودی عرب کی وزارت محنت و سماجی بہبود نے مدینہ منورہ میں تقریباََ 41پیشوں میں سعودائزیشن کرنے کا فیصلہ کر لیاہے ۔


سعودی وزیر محنت و سماجی بہبود کے وزیر احمد الراجعی کے مطابق 41پیشوں پر سعودی خواتین اور مرد شہریوں کو ملازمتیں دی جائیں گی ۔ وزیر محنت نے یہ فیصلہ مدینہ منورہ گورنریٹ اور اپنی وزارت کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یاداشت کے تناظر میں کیا ۔ اس یاداشت کے تحت بعض پیشے اور کام سعودیوں کے لیے مخصوص کر دیے جائیں گے ان میں غیر ملکی کام نہیں کر سکیں گے ۔ان تمام پیشوں کی تفصیلات اتوار کے روز پیش کر دی جائیں گی ۔41پیشوں پر سعودائزیشن کا اطلاق شاپنگ مالز، بند بازاروں ، شاپنگ سینٹرزپر ہوگا۔

ایساکرنے سے کئی ہزار آسامیاں پیدا ہوں گی ۔جبکہ ہوٹلوں اور سیاحتی اداروں کے کارکن ، گاڑیوں کے ڈرائیور، درخواستیں وصول کرنے والے، امن سلامتی کے ادارے کے اہلکار ، ویٹرز ٹیلیفون آپریٹرز ، دفتری کام کرنے والے ، سیکریٹری ، خدمات عامہ ، روم سروس انچارج ، فورمین ، استقبالیہ ، سیاحتی پروگراموں کے انچارج، امن و سلامتی کے انچارج ، اصلاح ومرمت کرنے والے کاموں کے انچارج ، مارکیٹنگ اور سیلز انچارج ، تعلقات عامہ کے انچارج غرض تمام فورمین اور انچارج ، سپر وائزرز کی آسامیوں پر صرف اور صرف سعودی شہری ہی کام کر سکیں گے ۔

سعودی ملازمین کو بالکل غیرملکی شہریوں کی طرح وقت اور ملازمت کے تمام قوانین کی پابندی کرنا ہوگی ۔ وزیر محنت کا کہناتھا کہ یہ پابندی یکم شعبان 1440ھ میں نافذالعمل ہو جائیگی ، اور آسامیوں پر سعودائزیشن کا عمل شوال 6تاریخ سے ہو جائیگا۔خلاف ورزی کرنیوالے اداروں کے لیے بھارر جرمانوں سمیت ادارے کی بندش کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے ۔