چیف جسٹس کی گفتگو سے تاثر ملتا ہے کہ مخصوص فیصلہ حاصل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا:فواد چودھری

چیف جسٹس کی گفتگو سے تاثر ملتا ہے کہ مخصوص فیصلہ حاصل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا:فواد چودھری

اسلام آباد:فواد چودھری نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی گفتگو سے تاثر ملتا ہے کہ مخصوص فیصلہ حاصل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔


وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک خبر شیئر کیا جس میں چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر پرویزمشرف کیس کا فیصلہ نہ کرتے تو یہ معاملہ کئی سال تک چلتا رہتا۔

وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنے رد عمل میں لکھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی گفتگو سے تاثر ملتا ہے گویا وہ مقدمے پراثراندازہوئے، چیف جسٹس پاکستان کی اس گفتگو کی وضاحت ضروری ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ انتہائی نا مناسب بات ہے جو چیف جسٹس سے منسوب کی گئی ہے۔وفاقی وزیر نے جس خبر کو ری ٹویٹ کیا اس کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باوجود مشرف کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔

مذکورہ خبر کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کا کیس بالکل واضح تھا، سابق صدر کو متعدد موقع دیئے گئے لیکن وہ معاملے کو طول دینا چاہتے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا کیس میرٹ پر سنا اور اس کیس میں نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے بینچ کا حصہ بننے سے انکار بھی کیا تھا۔