’اومی کرون‘ کس طرح ’ڈیلٹا‘ سے زیادہ خطرناک؟ تشویشناک خبر آگئی

’اومی کرون‘ کس طرح ’ڈیلٹا‘ سے زیادہ خطرناک؟ تشویشناک خبر آگئی

برطانیہ: کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے متعلق برطانیہ میں تازہ ترین مطالعے میں خطرناک پہلو سامنے آئے ہیں جس نے طبی ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

امپیریل کالج لندن کے تازہ تحقیقی مطالعے  کے مطابق  ڈیلٹا ویرئینٹ کے مقابلے میں اومیکرون  کے شکار افراد کا دوبارہ اس انفیکشن میں مبتلا ہونے کے   امکانات پانچ گنا زیادہ ہیں جبکہ ایسا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے تحت کہا جا سکے کہ نئی قسم اومیکرون کی شدت  ڈیلٹاکے مقابلے میں قدرے کم  ہے۔

خیال رہے کہ امپیریل کالج لندن  کی اسٹڈی کے نتائج برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی اور نیشنل ہیلتھ سروس کے اعداد و شمار پر مبنی  ہیں ۔

واضح رہے کہ کورونا کی نئی قسم  اومی کرون اب تک دنیا کے 80 ممالک تک پھیل چکی ہے۔  عالمی ادارہ صحت نے بھی گزشتہ دنوں  ایسے تمام ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم ’’اومی کرون‘‘دنیا بھر میں غیر معمولی رفتار سے پھیل رہی ہے جس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے  پہلے کی طرح  حفاظت کیلئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔عالمی ادارہ صحت نے ایسے تمام افراد کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد نے ابھی ویکسین نہیں لگوائی وہ ویکسین لگوا لیں اور ایسے تمام افراد جنہوں نے ایک ڈوز لگوائی اور دوسری ابھی تک نہیں لگوائی وہ ضرور اپنی دوسری ڈوز کو مکمل کر لیں ۔

 دوسری جانب اومی کرون کی تصدیق کے بعد سے متعدد ممالک نے فضائی سفر کی پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں ، کئی  ممالک کوروناکے نئے ویرنٹ سے بچنے کیلئے اضافی ڈوز مطلب بوسٹر بھی لگا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ حفاظت کی جا سکے ۔تاہم اس کے باوجود اومیکرون کے پھیلاؤ میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ اب تک یورپی ممالک کو رونا کی اس نئی قسم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں