صلاح الدین ایوبی نے مکہ اور مدینہ پر حملے کی دھمکی دینے والے عیسائی بادشاہ کو شکست فاش کیسے دی

صلا ح الدین ایوبی اسلامی تاریخ کے عظیم سپاہ سالار ہیں، صلاح الدین ایوبی نے 1182عیسوی میں دریائے اردن کو عبور کر کے کرک اور شوباک کے علاقوں پر حملہ کیا اور عیسائی فوجوں کو شدید نقصان سے دوچار کیا اور بہت ساروں کو قیدی بنا لیا
اس وقت عیسائی افواج جو Guy of Lusignan کے ماتحت تھیں انہیں sepphoris کے علاقے سے ہٹا کر الفولا بھیج دیا گیا۔ دوسری جانب صلاح الدین ایوبی نے 500 فوجیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گروپ بھیجا جو ان فوجیوں کو ڈرا دھمکا سکیں اور خود عین جالوت کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔ صلیبی افواج اس وقت کی سب سے زیادہ بڑی اور طاقتور افواج میں شمار ہوتی تھی مگر اس کے باوجود صلاح الدین کے لشکر نے ان کو شکست دی اور عین جالوت کی جانب بڑھنے لگے۔
وجہ یہ تھئی عیسائیوں کابادشاہ رینالڈ نے مسلمان تاجروں اور حاجیوں کو دریائے احمر کے راستے پریشان کیا۔ یہ وہ راستہ تھا جو صلاح الدین ایوبی آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنا چاہتا تھا۔ اس کے جواب میں صلاح الدین نے 30 چھوٹی کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑا تیار کروایا اور سنہ 1182 میں بیروت پر حملہ کر دیا اور اس بادشاہ کی سلطنت کو تہس نہس کر دیا۔ رینالڈ نے شہرِ مکہ اور مدینہ پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور اس راستے سے گزرنے والے حاجیوں کے قافلوں کو لوٹا کرتا تھا۔اسطرح صلاح الدین ایوبی نے بروقت حملہ کر کے عیسائی بادشہ کے ارادوں کو پاس پاش پاش کر دیا