پانامہ لیکس کیس: وزیر اعظم کے وکیل کوعدالت کے سخت سوالات کا سامنا،سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی  کردی گئی۔ تحائف کی مد میں رقم منتقلی پر وزیر اعظم کے وکیل کو سپریم کورٹ کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔  جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم نے حسین نواز سے تحفے میں رقم لی اور اس کا کچھ حصہ بیٹی کو دیا یہ کب ہوا؟ہوسکتا ہے کہ یہ کالا دھن ہو بیٹے نے والد کو رقم بھیجی باپ نے بیٹی کے نا م زمین خریدی، ہوسکتا ہے اس طرح ایک طرف جائیداد خریدی جارہی ہو اور احتیاط بھی برتی جارہی ہو،ممکن ہے مریم نے والد کی جانب سے دی گئی رقم سے ہی جائیداد خریدی ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے رقم غیر قانونی طریقے سے بیٹے کو منتقل کی ۔

جسٹس عظمت سعید نے وزیر اعظم کے وکیل سے کہا کہ فارسی نہیں بول رہے، مالی سالوں کا ریکارڈ بتائیں، ریکاڈ پر رقم کی منتقلی کی کوئی دستاویز نہیں ،عدالت کو تمام تحائف سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ مریم نواز کے وکیل شاہد حامد تمام دستاویزات ریکارڈ پر لائیں گے۔ 

پاناما کیس کی اہم سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا  کہ عدالت دیکھنا چاہتی ہے کہ  کیا وزیراعظم کو ان کے بچوں کی جانب سے ملنے والے ایک اعشاریہ نوملین ڈالربینکوں کے ذریعے آئے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ   کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنک سےمتعلق ہے جبکہ وزیراعظم کے وکیل نے دلائل دیئے ہیں کہ وزیر اعظم نے کوئی ٹیکس چوری نہیں کی تحائف کا ذکر وزیر اعظم کے گوشواروں میں موجود ہے۔

پانامہ لیکس دنیا کا دلچسپ ترین کیس ہے،شیخ رشید

دوسری جانب وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خا ن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےعدالت سے کچھ نہیں چھپایا، وزیر اعظم نے اپنے بچوں سے رقم تحفے میں لی ،یہ تمام ٹرانزیکشن بینکوں کے ذریعے ہوئی۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ تحائف اسی صورت آمدن تصور ہو نگے جب وہ ٹیکس نمبرنہ رکھنےوالےکودیئے جائیں ، وزیر اعظم کےویلتھ اور اِنکم ٹیکس گوشوارے عدالت میں جمع ہیں۔ وزیر اعظم کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کےاکاؤنٹ سے3لاکھ10 ہزار ڈالرمریم کےاکاؤنٹ میں منتقل ہوئے ،
جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یادنہیں پڑتا1.9 ملین کا تحفہ شریف فیملی کےٹیکس ریٹرن میں فائل ہوا ہو۔ عدالت نے وزیر اعظم کے وکیل سے کہا کہ حسین نواز کی جانب سے یہ تحائف2010 میں دئیے گئے جبکہ جدہ سٹیل مل 2005 میں فروخت ہوئی،کیا سٹیل مل کے علاوہ حسین نواز کے اور بھی کاروبار تھے۔ جس پرمخدوم علی خان نے جواب دیا کہ حسین نواز ایف بی آر کے ٹیکس دہندہ ہیں ، اس کے علاوہ انکاسعودی عرب میں بھی کاروبار ہے، تاہم اس کی تفصیل حسین نواز کے وکیل خو د دیں گے ،بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنک سےمتعلق ہے۔

شیخ رشید کو ہڈی ڈال دیتے تو آج وہ ہمارے ساتھ ہوتے ،خواجہ سعد رفیق

سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت میں وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ ہوئی تو وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا  کہ وہ مانتے ہیں وزیر اعظم نے تحائف لئے گئے لیکن بنک کے زریعے لئے گئے ،اِنکم ٹیکس قوانین کے تحت بیرون ملک سے آنے والے تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔

عدالت نے سوال کیا کہ حسین نواز کی جانب سے یہ تحائف2010 میں دئیے گئے جبکہ جدہ سٹیل مل 2005 میں فروخت ھوئی۔کیا سٹیل مل کے علاوہ حسین نواز کے اور بھی کاروبار تھے؟ حسین نواز کے سعودیہ میں اور بھی کاروبار ہیں۔حسین نواز کے وکیل یہاں موجود ہیں وہ وضاحت دیں گے مخدوم علی خان کا جواب ۔جس پر عدالت نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہیں گے کہ یہ رقم 1.9ملین دالر بینکس کے ذریعے آئے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنک سےمتعلق ہے رقوم کی منتقلی کے حوالے سے آپ کو تفصیلات دینا ہوں گی ۔

 تحائف کی مد میں رقم منتقلی پر وزیر اعظم کے وکیل کوعدالت کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ جسٹس آصف سعیدکھوسے نے کہا کہ وزیراعظم نے حسین نواز سے تحفے میں رقم لی، اور اس کا کچھ حصہ بیٹی کو دیا یہ کب ہوا؟ ہوسکتا ہے کہ یہ کالا دھن ہو بیٹے نے والد کو رقم بھیجی باپ نے بیٹی کے نام زمین خریدی ہوسکتا ہے، اس طرح ایک طرف جائیداد خریدی جارہی ہو اور احتیاط بھی برتی جارہی ہو،ممکن ہے۔ مریم نے والد کی جانب سے دی گئی رقم سے ہی جائیداد خریدی ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے رقم غیر قانونی طریقے سے بیٹے کو منتقل کی ۔ جسٹس عظمت سعید نے وزیر اعظم کے وکیل سے کہا کہ فارسی نہیں بول رہے، مالی سالوں کا ریکارڈ بتائیں، ریکاڈ پر رقم کی منتقلی کی کو دستاویز نہیں عدالت کو تمام تحائف سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔مریم نواز کے وکیل شاہد حامد تمام دستاویزات ریکارڈ پر لائیں گے۔

عمران خان نے وزیراعظم کو ڈیووس نہ جانےکامشورہ دیاتھا،فواد چودھری

مصنف کے بارے میں