کیلیفورنیا: فرینچ پولینیشیا نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے حمایتیوں کو امید ہے کہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں خود مختار تیرتے ہوئے شہروں کیلئے راہ ہموار ہو سکے گی۔

چھوٹی سی ساحلی ریاست فرینچ پولینیشیا نے جمعے کو سان فرانسسکو میں کیلیفورنیا سی اسٹیڈنگ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔

اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ انسٹیٹیوٹ کو تاہیتی جزیرے پر اس کے پہلے ‘سی اسٹیڈ’ تیرتے ہوئے منصوبے کی ممکنہ اجازت دی جا سکے۔تاہم مستقبل پر نظر رکھنے والے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے دنیا کے گرد ہموار تیراکی کے تجربے کے خواب کو پورا کرنا ہے۔

سی اسٹیڈنگ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رینڈولف ہینکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘مجھے نہیں لگتا ہے کہ آغاز میں یہ کوئی انتہائی خطرناک کام ہوگا۔’

آغاز میں یہ فرینچ پولینیشیا کی حدود میں ہی ہوگا۔ اسے ساحل کے قریب اور سمندر سے محفوظ رکھا جائے گا۔اس معاہدے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیرتی ہوئی آبادی کو حکومت سے کس قسم کی آزادی ملے گی۔

رینڈولف ہینکن کو ان کی تجاویز پیش کرنے کیلئے مدعو کیے جانے کے بعد پراعتماد ہیں کہ انہیں حکام کی جانب سے ‘لی وے’ یعنی اپنے انتظامات اور ‘معاشی طور پر خصوصی سمندری علاقے’‘ کو خود چلانے کی اجازت دیں گے۔

اس معاہدے کو منظور کرنے کیلئے دو نکات واضح کیے گیے ہیں، کیا اس سے مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا اور کیا اس سے ماحول کو نقصان پہنچانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد ہی انسٹیٹیوٹ ان کے مطابق’’غیر معمولی گورننگ فریم ورک’ کا آغاز کر سکیں گے،اور اس کیلئے مقامی حکومت اور خاص طور پر فرانس جس کے تحت یہ علاقہ آتا ہے سے منظوری حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔مسٹر ہینکن کے مطابق:’میں پراعتماد ہوں لیکن اس میں کئے حصے آگے بڑھنے والے ہیں۔’

انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ابھی تک صرف کمپیوٹر پر بنائی گئی تصاویر ہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا بنیادی مقصد تجربے کیلئے جگہ بنانا ہے نہ کہ آزاد خیالی کیلئے۔’

مسٹر ہینکن اس بات پر بہ ضد ہیں کہ سمندر کے قریب رہنے سے سمندروں کوشکار گاہ ، سپر ہائی وے اور کچرے کاڈبہ سمجھنے کا رویہ بدل جائے گا۔

مصنف کے بارے میں