گلگت: گلگت بلتستان کی پولیس نے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا جن کا تعلق بلوارستان نیشنل فرنٹ (بی این ایف)سے بتایا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے انسپیکٹر جنرل طفر اقبال اعوان نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ہونے والے 12 افراد پاکستان مخالف نظریات کو فروغ اور غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ بی این ایف کا قیام 1995 میں عمل میں آیا، اس کے سربراہ عبدالحامد بلجیم میں ہیں اور وہ وہاں سے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک نیٹ ورک بنارہے ہیں۔

آئی جی گلگت بلتستان نے دعوی کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را بی این ایف کو فنڈنگ کرتی تھی اور اس تنظیم کے بارے میں پولیس کو شبہ ہے کہ وہ دہشت گرد سرگرمیاں کررہی ہے اور چائنا پاکستان اقتصادی راہداری اور دیامیر بھاشا ڈیم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 30 سے 35 کروڑ روپے کے منی ٹریل کا بھی سراغ لگایا گیا ہے جنہیں ہتھیاروں اور املاک کی خریداری کے لیے استعمال کیا گیا۔انہوں نے دعوی کیا کہ رقم خفیہ ذرائع سے یہاں تک پہنچی۔پولیس کی جانب سے یہ دعوی بھی کیا گیا کہ انہوں نے ملزمان کے قبضے سے 8 کلاشنکوف، 3 شاٹ گنز، ایک 7 ایم ایم پستول اور ایک 32 کیلیبر کی ریوالور بھی برآمد ہوئی۔پولیس کے مطابق اس کے علاوہ رائفل پر لگنے والی ایک دور بین اور پاکستان مخالف مواد پر مشتمل لٹریچر کے 35 کارٹن بھی برآمد ہوئے ہیں۔اس حوالے سے بی این ایف سے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا.