زندگی بھر زندگی کیلئے ترستے تھیلسمیا کے مریض۔۔۔!

زندگی بھر زندگی کیلئے ترستے تھیلسمیا کے مریض۔۔۔!

تھیلسمیا خون کی ایک ایسی بیماری ہے جس کے شکار افراد کی ساری زندگی اس مرض کا مقابلہ کرتے اور زندگی بھر زندگی کے لئے ترستے ہوئے گزرتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق تھیلسمیا (Thalassemia) کی دواقسام ہیں تھیلسمیا مائینر اور تھیلسمیا میجر۔ تھیلسمیا مائینرمیں خون کے سرخ سیل کچھ کم ہوتے ہیں لیکن تھیلسمیا میجرمیں یہ انتہائی کم ہوتے ہیں اور اور مستقل کم ہوتے جاتے ہیں، جس پر تھیلسمیا میجر کے مریضوں کو تقریباً ہر ماہ خون لگوانا پڑتا ہے، اور خون لگنے پر ہی ان کی زندگی کا انحصار ہوتاہے ۔ خون کے سرخ خلیات میں ہیموگلوبن نامی پروٹین ہوتا ہے جس میں آئرن(iron) پگمنٹ ہوتا ہے جو آکسیجن جذب کرتے ہوئے آکسی ہیمو گلوبن بن جاتا ہے اور جسم کے ہر حصے تک، ہر ٹشو تک آکسیجن اور توانائی پہنچاتا ہے۔ کسی مخصوص وجہ سے اگر جسمانی نظام ہیمو گلوبن بنانے سے قاصر ہوتو یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر ماں اور باپ دونوں تھیلسمیا مائینر ہیں تو بچوں میں تھیلسمیا میجرکے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ تھیلسمیا کا مرض ایک مخصوص جین (gene) کے ذریعے بچے میں منتقل ہوتا ہے، جین جوڑے میں ہوتے ہیں جو ایک ماں سے ایک آتا ہے اور ایک باپ سے۔ اگر دونوں میں ناقص جین ہوں تو بذات خود تو وہ عام اور نارمل زندگی گزارتے ہیں لیکن حد درجہ ممکن ہے کہ بچہ اس عارضہ سے متاثر ہو جائے، اس طرح تھیلیسمیاکی بیماری والدین سے بچوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔


متاثرہ بچہ پیدائش کے وقت بظاہر نارمل ہوتا ہے لیکن چھ ماہ تا دو برس کی عمر میں ڈاکٹر مرض کی شناخت کرسکتے ہیں۔ اس مرض میں مبتلابچوں کی تکلیف، اور ان کے والدین کی اذیت کو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ یہ بچے حسب معمول زندگی نہیں گزارسکتے، نہ تو اچھی طرح پڑھ پاتے ہیں اور نہ ہی دوستوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں، کیونکہ خون کی کمی سے ان کا دماغ وقتاً فوقتاً تھوڑا سا سست ہوجاتا ہے ، اور ہر تین تا چار ہفتوں میں انہیں خون لگوانے کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے، اس دوران سکول سے ناغہ کرنا پڑتا ہے، اور انہیں کئی دوسرے عارضوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ اس طرح زندگی نہ صرف ان کے لئے بلکہ ان کے اپنوں کیلئے بھی بوجھ بن جاتی ہے۔ اس موذی مرض کے شکار ایک بچے کے علاج کا ماہانہ خرچ تقریباً دس ہزارروپے سے زائد ہوتا ہے جو غریب والدین کے علاوہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بھی انتہائی مشکل اور ناقابل برداشت ہوتاہے ۔ جبکہ اس بیماری کا مفت علاج کرنے والے سماجی ادارے بھی فنڈز کی کمی کا شکار رہتے ہیں جس کے باعث اکثرغریب بچوں کو مکمل علاج کی سہولت میسر نہیں ہوپاتی اور ان بچوں کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں خون کا عطیہ دینے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں صرف تقریبا4سے5فیصد ایسے افراد ہیں جوکہ رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دیتے ہیں جبکہ دیگر افراد حادثات یا دیگر سنگین صورتوں میں خون عطیہ کرتے ہیں۔ جبکہ ہر وہ شخص جس کی عمر 18سے 50سال اور وزن تقریبا50کلو سے زائد ہو وہ خون کا عطیہ دے سکتاہے۔ خون کے عطیہ کے علاوہ مالی تعاون سے ان بچوں کو ادویات اورخون کی فراہمی ممکن ہوسکتی۔ ہمیں مشکلات اور مالی مسائل کا شکاران افراد کی خصوصی مدد اور معاونت کرنا چاہئے کیونکہ تھیلسمیا کے مرض میں مہنگے علاج سے جسم میں آئرن کی مقدار کو نارمل سطح پر لا نا ہوتا ہے، ہرماہ نیا خون لگوانا ہوتا ہے، اس کے علاوہ باقاعدگی سے میڈیکل ٹیسٹ کروانا ہوتے ہیں۔ اس طرح متاثرہ بچے اور اس کے گھروالے عام طرز زندگی گزارنے سے محروم رہتے ہیں، ہمیں ان کا دکھ بانٹنا چاہئے، انہیں خون کے عطیات دینا چاہیے۔اور مستقبل میں اس مرض پر قابو پانے کے لیے شادی سے قبل لڑکا اور لڑکی کے خون ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے ، اور اگر شادی خون کے رشتہ دار سے ہورہی ہے تو خون کا مخصوص ٹیسٹ بہت ہی ضروری ہے کیونکہ یہ ٹیسٹ تھیلسمیا کی موجودگی کی تصدیق کرسکتا ہے۔ بلاشبہ کسی بھی بیماری کی روک تھام کے لئے حفاظتی اقدامات ، اذیتناک صورتحال اور مشکل ترین علاج سے کہیں بہتر ہے۔ 

رانا اعجاز حسین چوہان

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)