13 مطالبات کے پورا ہونے تک قطر کے خلاف اقدامات جاری رہیں گے: سعودی عرب

ریاض : قطر کو بحرانی کیفیت سے کب تک گزرنا پڑ سکتاہے اس کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ ابھی تک عرب ممالک نے اپنے مطالبات میں لچک نہیں دکھائی ۔گزشتہ روز  سعودی عرب کی کابینہ نے کہا ہے کہ قطر جب تک خلیجی عرب ممالک کے تمام تیرہ مطالبات کو پورا نہیں کردیتا،اس وقت تک اس کے خلاف موجودہ تعزیری اقدامات جاری رہیں گے۔کابینہ نے کہا ہے کہ قطری حکام کو پیش کیے گئے مطالبات میں دہشت گردی سے نمٹنے اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے حصول کی ضمانت دی گئی ہے۔

سعودی کابینہ کا سوموار کو ساحلی شہر جدہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت اجلاس ہوا ۔انھوں نے کابینہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر ہونے والی اپنی گفتگو کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ انھوں نے عالمی اتحاد کی داعش کے قلع قمع کے لیے جاری لڑائی میں امریکا کے کردار کو سراہا ہے ۔

شاہ سلمان نے کابینہ کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے فون پر ہونے والی گفتگو سے بھی آگاہ کیا۔انھوں نے وزیراعظم کو شمالی شہر موصل میں داعش کے خلاف عراقی سکیورٹی فورسز کی فتح پر مبارک باد پیش کش کی تھی۔

انھوں نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں بھی کابینہ کے ارکان کو بتایا۔ریکس ٹیلرسن نے گذشتہ ہفتے خلیجی ممالک کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے متعلقہ ممالک سے مذاکرات کیے تھے لیکن ان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بحران کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔