سعودی عرب میں مِنی سکرٹ میں ویڈیو پوسٹ کرنے والی خاتون سے تفتیش

ریاض: سعودی عرب میں حکام ایک نوجوان خاتون سے تفتیش کر رہے ہیں جنھوں نے مِنی سکرٹ میں اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔خلود نامی یہ خاتون ایک ماڈل ہیں اور انھوں نے تاریخی قلعے اشیقر کے گرد چکر لگاتے ہوئے اپنی چھوٹی سی ویڈیو شائع کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض کا کہنا تھاکہ اس خاتون کو مسلمانوں نے ملک میں موجود کپڑوں کے سخت قانون کو توڑنے پر گرفتار کیا جائے۔

جبکہ دیگر سعودیوں نے اس خاتون کے دفاع میں آواز اٹھاتے ہوئے ان کی ’بہادری‘ کی تعریف کی ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کے لیے عوامی مقامات پر ’عبایہ‘ کے ساتھ ساتھ حجاب پہننا لازم ہے۔نجد صوبہ سعودی عرب کے قدامت پسند سوچ رکھنے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔یہ ویڈیو جلد ہی ٹوئٹر پر بہت سے سعودیوں میں پھیل گئی جہاں اس حوالے سے آرا منقسم دکھائی دے رہی ہے۔ بعض کا کہنا تھا کہ خلود کو سزا ملنی چاہیے جبکہ دیگر کے خیال میں انھیں وہ پہننے کی اجازت ہونی چاہیے جو وہ پہننا چاہتی ہیں۔