راحیل شریف تاحال کسی فوج کی سربراہی نہیں کر رہے، مشیر خارجہ

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا تحفظ کریں گے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عسکری اتحاد کے حوالے سے جو بھی ضابطہ کار طے ہو گا اسے پہلے پارلیمینٹ میں پیش کریں گے۔

انہوں نے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی کرنے کے بارے میں بتایا کہ راحیل شریف ابھی کسی باقاعدہ فوج کی سربراہی نہیں کر رہے کیونکہ ابھی تک کوئی باقاعدہ فوج بنی ہی نہیں ہے کیونکہ جب تک اسلامی عسکری اتحاد کے ٹی او آر نہیں بنتے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اس وقت تک فوج کی کمان نہیں سنبھالیں گے۔

اس پر چئیرمین سینیٹ رضا ربانی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا جب ٹی او آرز ہی نہیں بنے تو حکومت نے انہیں کمان کرنے کی کیسے اجازت دے دی ابھی تو جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کی دستاویز کی روشنائی ہی خشک نہیں ہوئی اور آپ نے ایک شخص کو اتنی اہم جگہ بھیج دیا جس کو ہمارے ایٹمی اثاثوں سمیت تمام معاملات کا علم ہے اور آپ کو اس کے ٹی او  آر کا ہی نہیں پتہ۔

مشیر خارجہ نے جان مکین کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا امریکی وفد نے وزیراعظم، آرمی چیف اور مجھ سے ملاقات کی اور اس وفد کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں مثبت اور حوصلہ افزا رہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران ہم نے افغانستان سے متعلق اپنا نقطہ نظر دیا اور واضح کیا کہ حقانی نیٹ ورک، عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی پر ہماری پالیسی واضح ہے اور بغیر کسی امتیاز کے آپریشن کر رہے ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں