ٹرمپ وعدے سے پھر گئے،ایران کیساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کردی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے وعدے سے پھر گئے ، ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کی توثیق کردی۔

بین الاقوامی میڈیاکے مطابق امریکی حکام نے اس بات کا اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی حمایت کردی ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کی اقتصادی پابندیوں میں کی جانے والی نرمی جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ صدر بنے تو ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کردیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ دوسری طرف دو سالہ معاہدے کے تحت ایران نے بھی اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی حامی بھری تھی۔

تفصیلات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے پاس 18 جولائی تک کا وقت تھا کہ آیا ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کررہا ہے یا نہیں۔ وائٹہاﺅس کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فی الحال امریکا کے پاس جو معلومات موجود ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران شرائط پر پورا اتر رہا ہے۔
وائٹ ہاﺅس نے اشارہ دیا ہے کہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے باوجود ایران پر بیلسٹک میزائل اور فاسٹ بوٹ پروگرام کو روکنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران بدستور علاقائی استحکام اور امریکی مفادات کے لیے خطرناک ترین ملک ہے۔