صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد مسترد

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد مسترد

واشنگٹن : امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد کو مسترد کر دی ہے۔


ایوان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت اس کے باوجود 332 ارکان میں سے صرف 95 ارکان نے قرارداد کی حق میں ووٹ دیا۔ایوان کی سپیکر نینسی پلوسی اور دیگر ڈیموکریٹس کی مخالفت کے باوجود، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس الگرین نے یہ قرارداد پیش کی ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈیموکریٹس 2016ء کی انتخابی مہم میں ٹرمپ کے روس سے مبینہ مراسم، صدر کی ٹیکس ادائیگی اور دیگر مالی لین دین کے معاملے کی چھان بین کا بھی مطالبہ کررہے ہیں ۔

پلوسی نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم حقائق معلوم کریں گے۔ اس سے قبل بھی الگریند سمبر 2017ءاور اس کے ایک ماہ بعد صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی قرارداد پیش کر چکے ہیں۔ ا±س وقت ایوان نمائندگان پر ریپبلیکن پارٹی کا کنٹرول تھا اور دونوں مرتبہ قرارداد مسترد ہوئی تھی تاہم جنوری میں جب سے ایوان پر ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے، الگرین نے پہلی بار قرارداد ووٹنگ کے لیے پیش کی ہے۔

سپیکر پلوسی جاری چھان بین کے حق میں ہیں۔ انہوں نے ایوان میں صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد روکنے کرنے کی کوشش کی ۔ان کے خیال میں مواخذے کی کوشش سے ڈیموکریٹس کو سیاسی طور پر نقصان پہنچے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایوان نمائندگان بعد میں کسی وقت ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے مطالبے پر اکثریتی ووٹ دے بھی دیتا تو بھی ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت والا سینیٹ ٹرمپ کے خلاف ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا۔