ترے کوچے سے ہم نکلے

Amira Ahsan, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

سائنس ٹیکنالوجی میں غرق نسلیں تاریخی واقعات، کردار ساز حکایات، روایات سے دور، فہم وفراست سے عاری ہوجاتی ہیں۔ عقل کے پیمانوں پر ہر چیز ناپی تولی نہیں جاسکتی۔ راہبر ہو ظن وتخمیں تو زبوں کار حیات۔ زمین پھاڑ دینے والی، پہاڑوں کی بلندیاں چھو لینے والی، پہاڑوں کے ٹل جانے والی طاقتوں نے افغان زمین پر 20 سال ہر وار آزما لیا۔ انسانی تاریخ کی دماغ کی چولیں ہلا دینے والی، تیز ترین عسکری ومواصلاتی ٹیکنالوجی جس طرح منہ کے بل گر کر افغانستان میں ھواللہ احد کہہ رہی ہے، اس کے ادراک کے لیے جو حسیات چاہییں، ان سے بیشتر دنیا محروم ہے۔ عصر حاضر کے چینگیز وہلاکو جس طرح گھن گرج سے اترے تھے، ہم کیسے بھول جائیں۔ پوری دنیا کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔ افغانستان چٹکی میں مسل کر رکھ دیا جاسکتا تھا۔ مگر نجانے کیوں اتنے زیادہ ممالک کو اکٹھا کیا۔ 50 نیٹو اور پارٹنر ممالک نے فوجی مشن بھیجے۔ جہاں 01لاکھ 30 ہزار امریکی تھے وہاں تبرکاً 2 فوجی لاٹویا کے بھی تھے! لامنتہا اعداد وشمار ہیں عسکری طاقت کے۔ اب ان کے آنے والے سال تو حسابات کرتے ہی گزریں گے!

تاریخ سے انہی کے برادر بزرگ ہلاکو کی موت کا منظر دیکھ لیجیے۔ ’قیدی مسلمانوں کی 3 صفیں کھڑی تھیں جن کے قتل کا حکم ہلاکو نے دیا۔ جلاد گردنیں اڑا رہا تھا۔ ایک بوڑھا قیدی غریب گھرانے کا واحد کفیل تھا۔ موت سے بچنے کو پہلی سے دوسری اور پھر تیسری صف میں چلا گیا۔ ہلاکو دیکھ رہا تھا۔ تلوار بوڑھے کے سر پر بالآخر آگئی۔ ہلاکو نے جلاد کو روک کر بوڑھے سے پوچھا۔ بابا! اب بتا تو مجھ سے بھاگ کر کہاں جائے گا؟ تجھے مجھ سے کون بچائے گا۔ بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ’وہ اوپر والی ذات چاہے تو کچھ بھی ممکن ہے۔ صرف اللہ بچا سکتا ہے۔‘ اتنے میں ہلاکو کا گرز گر پڑا۔ ہلاکو اسے اٹھانے گھوڑے سے جھکا، پاؤں رکاب سے اٹک کر پھنس گیا اور وہ خود نیچے جا پڑا۔ ہلاکو کا گھوڑا گھبراکر بھاگ نکلا۔ ہلاکو کو پتھروں پر گھیسٹ گھسیٹ کر بھاگتا رہا۔ ہلاکو کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر لہولہان ہوگیا۔ چند منٹوں میں مر گیا۔ گھوڑا طاقتور لشکر کے قابو میں نہ آیا۔ جب بالآخر ہلاکو کو چھڑایا تو سر بری طرح کچلا جا چکا تھا۔ لشکر بوڑھے سے شدید خوفزدہ تھا۔ بابا آرام سے پیدل چل کر گھر چلا گیا! اتنی مہیب قوتوں کے مقابل ایسی ہی کہانی افغانستان کی ہے۔ امریکا کا سر افغانستان کی چٹانوں، پتھروں پر گھسٹتا پٹختا لہولہان ہوگیا۔ میدان جنگ سے خاموشی سے (موٹرسائیکل پر بیٹھ کر وقتی طور پر) نکل جانے والے ملاعمر بالآخر امریکا کی بھاری بھرکم بیس سے صرف 3 میل کے فاصلے پر رہ کر 23 اپریل 2013ء کو اپنے اللہ سے جا ملے، جس کے سارے سچے وعدے پورے ہوئے۔ ایک کروڑ ڈالر ان کے سر کی قیمت تھی۔ جس نے 2001ء کے جنگ احزاب جیسے معرکے میں زبان وعمل سے یہی کہا تھا کہ: وہ اوپر والی ذات چاہے تو کچھ بھی ممکن ہے! وہ سب ممکن ہوگیا۔’ مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے مٹ جاتا ہے۔‘ (الانبیاء: 18) یہ نظر نہ آنے والی اس سپاہ کے سپہ سالار تھے جس کے خلاف ’تمام بموں کی ماں‘ سمیت دنیا کا ہر بم آزمایا گیا۔ (یہ بم ایک میل پر محیط علاقے پر 11 ٹن بارود سے موت برساتا ہے نہایت شعلہ گیر مادہ ہونے کی بنا پر) بیس سال ساری فوجیں کس ’قوت‘ کے خلاف لڑتی رہیں؟ یہ ملین ڈالر سوال ہے۔ یہ بھی ہماری تاریخی کہانی ہی کی نظیر ہے۔ ذوالحج، ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی کہانی کا مہینہ۔ فریضہئ حج اسی عظیم داستان کی سالانہ تربیت ہے۔ کفر کے مقابل تنہا نوجوان! توحید پرست ابراہیمؑ کی ولولہ انگیز مزاحمت۔’ تُف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جنہیں تم اللہ کو چھوڑکر پوج رہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟ انہوں نے کہا، جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔‘ ہم نے کہا: ’اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر۔‘ (الانبیاء: 67-68) یاد رہے کہ بدھا کے مجسمے پر پوری دنیا نے ملا عمرؒ پر کیسا دباؤ ڈالا تھا، مگر وہ بت شکنی پر ڈٹے رہے۔ طالبان نے اپنے باپ ابراہیمؑ والی تنہائی کاٹی۔ 59 مسلم برادر ملک، برادران یوسفؑ ثابت ہوئے! ایک نے بھی ساتھ نہ دیا! اِدھر امریکا کے انخلاء کو روکنے کے لیے ہمارے سیکولر طبقے نے صفحات سیاہ کر ڈالے۔ امریکا بھی پسپائی اور شکست قبول کرنے سے بچنے کے راستے تلاش کرتا رہا مگر تابہ کہ؟ بالآخر چار امریکی صدور نے ساری ذہانتیں، تجربے، پالیسیاں آزما ڈالیں۔ تھنک ٹینکوں کی سونچن دانیوں کے سوتے خشک ہوگئے، سرپھرے صدر ٹرمپ نے معاہدہ کر ڈالا۔ بائیڈن کے پاس بھی چارہئ کار نہ تھا۔ کٹھ پتلی افغان حکومت اور اربوں ڈالر افغان فوج نگل کر بھی کاٹھ کی ہنڈیا ثابت ہوئے۔ بائیڈن نے کہا: ’ہم امریکا کی طویل ترین جنگ ختم کررہے ہیں۔ میں امریکیوں کی ایک اور نسل افغان جنگ میں نہیں جھونکوں گا۔ بلاشبہ ہماری فوجیں اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت سے لڑیں۔ (پیمپروں میں کبھی لڑتے، کبھی……!) ہم نے اہداف حاصل کرلیے، اسامہ بن لادن کی موت بڑا ہدف تھی۔‘ (پھر آپ 2011ء کے بعد مزید 10 سال امریکی ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی کھربوں ڈالر میں کیوں ڈبوتے رہے؟) ان کا ناقدین کو یہ کہنا تھا کہ ہم 

افغانستان کی تعمیر وترقی کے لیے وہاں نہیں گئے تھے! حالانکہ وائس آف امریکا کی رپورٹ (11جولائی) کے مطابق: ’2 کھرب ڈالر تو صرف افغانستان کو مغربی جمہوریت کے مطابق ڈھالنے کے لیے خرچ کیا۔ حملے کے ایک مہینے کے اندر طالبان روپوش ہوگئے، اس کے بعد خیال تھا کہ بس اب طالبان کی سخت گیر حکومت کی جگہ مغرب دوست جمہوری مملکت، پوری دنیا کے لیے انتہاپسندی سے نجات کے لیے ایک مثال بن جائے گی۔ 5 دسمبر 2001ء میں حامد کرزئی کی عبوری حکومت قائم ہوگئی تھی۔ (مگر پھر کیا ہوا؟ دلدل بن گئی!) مسلسل فدائی حملوں اور طالبان کی طرف سے مزاحمت شروع ہوگئی۔‘ تقریباً نہتے، پیدل، منتشر طالبان کے پاس کون سی خفیہ طاقت تھی جس نے سبھی فوجوں کی مشترکہ بے پناہ قوت کو شکست دی؟

تاہم جنگ کے خاتمے کے آخری مرحلے پر امریکی فوج کے بوکھلاہٹ بھرے انخلاء پر دبی زبان سے سبھی تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ عملاً فرار کی کیفیت میں رات کی تاریکی میں بلااطلاع (ضابطے کی تقریب اور حوالگی تو رہی ایک طرف) نکل جاتا۔ محفوظ مقام پر پہنچ کر سانسیں بحال کیں، پھر اطلاع دی کہ ہم نے باگرام خالی کردیا ہے سنبھال لو! اور یہ جو کھربوں ڈالر (بہت سے اعداد وشمار جاری ہو رہے ہیں۔) کٹھ پتلی جمہوریت کا شاہکار کھڑا کرنے پر لگے وہ کس کام آئے؟

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 27 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوگئیں۔ 3 لاکھ افغان فوج کو تربیت دی اور مسلح کیا۔ بائیڈن کے مطابق کسی بھی جدید فوج کے برابر جدید ترین فوجی ساز وسامان انہیں دیا۔ اب فوج اور اس کا سامان کہاں ہے؟ طالبان کے آگے ہتھیار ڈال کر یا سرحد پار بھاگ جانے سے طالبان کے حصے آگیا! افغانستان مغربی جمہوریت کے مطابق ڈھالنے میں اب مناظر یہ ہیں کہ امریکی اثرات کے تحت کابلی نوجوانوں کو یہ غم ہے کہ وہ شیشہ نہیں پی سکیں گے۔ پسندیدہ ہالی وڈ بالی وڈ ادکاروں کے سے بال، حلیے نہیں بنا سکیں گے۔ بیوٹی پارلر نہیں چل سکیں گے۔ بریک ڈانس گروپ کی لڑکی ان کے دور میں یہ سب نہیں کرسکے گی جو وہ دو لڑکوں کے درمیان فن کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ گانے بجانے والے طبقے پر غم طاری ہے۔ سو کھربوں ڈالر ان مناظر، ان فضاؤں کو بنانے میں کھپے! اب مزید افتاد یہ ہے کہ باگرام کیا چھوڑا، عراقی بھی امریکی اڈوں پر اپنے ہاں شہ پاکر حملے کرنے میں تیزتر ہوگئے۔ دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی، لوگوں نے میرے صحن سے رستے بنا لیے۔ اے ایف پی کی زخموں پر نمک چھڑکتی (11جولائی، پال پینڈے) رپورٹ یہ بھی ہے کہ جب امریکا، عراق اور افغانستان میں جنگیں لڑ رہا تھا (پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا) چینی صدر زی جن پنگ اپنی فوج بڑھانے میں جتا ہوا تھا۔ دنیا بھر میں (ایشیا، مشرق وسطی، جبوتی اور جنوبی چینی سمندر) اپنے اڈے بنا رہا تھا۔ اسی دوران روسی صدر پوٹن روس کو مضبوط کرتا رہا۔ شمالی کوریا بھی ایٹمی ہتھیار بناکر امریکا کے لیے خطرے کا سامان پیدا کررہا تھا۔ سو اب چین اور روس، امریکی طاقت، اثر ورسوخ اور مفادات کو چیلنج کررہے ہیں۔ امریکا کو اس کے مداوے پر جت جانا ہوگا۔ یعنی عالمی طاقت کے توازن میں گرتی امریکی پوزیشن کو بچانا۔ امریکا شدومد سے افغانستان میں اپنے ترجمان بچانے کی بات کرتا ہے۔ ان کے ترجمان تو پاکستان میں بھی بھرے پڑے ہیں۔ امریکا کے جانے اور طالبان کے چھا جانے کے خدشے سے ان پر طاری یاسیت اور ہول دیدنی ہے۔ بغض بن کر مونہوں سے امڈا پڑتا ہے۔ جو سینوں میں ہے وہ شدید تر ہے! افغانوں کو پاکستان کی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرانے والے! گویا خود تو ہم دودھ کے دھلے تھے اگر افغان جنگیں نہ ہوتیں! طالبان نے بڑی بھاری جنگ جیتی ہے۔

جنگ جیتنا اپنے لیے آسان ہو کیسے

جب لوگ ہوں دشمن کے پرستار زمیں پر