پاناما کیس کا فیصلہ 22 جون کے بعد آ سکتا ہے: فواد چوہدری

لاہور: تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا پاناما کیس کا فیصلہ 22 جون کے بعد کسی بھی وقت آ سکتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں اپارٹمنٹس کے بارے میں جواب نہیں دیا گیا اور جو شہادتیں موجود ہیں یہ لوگ انہیں چھپانا چاہتے ہیں۔ حدیبیہ پیپر ملز بہت بڑا اسکینڈل ہے جبکہ شریف خاندان جتنا اس دلدل سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اتنا پھنس رہے ہیں۔ تاریخ رقم نہیں کرنی انہوں نے رقم واپس کرنی ہے اور پرندے کی طرح یہ لوگ جال میں پھڑ پھڑا رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حدیبیہ کی رقم موٹروے کے کمیشن سے آئی تھی اور ہم کہہ رہے تھے کہ بڑے منصوبوں میں کمیشن ہے۔ پنجاب میں شہباز شریف نے 80 ہزار کروڑ روپے کا کام کیا ہے جبکہ گھر اور سستی روٹی سمیت دیگر منصوبوں میں کرپشن ہوئی اگر ریکارڈ مل جائے تو چوریوں کا پتہ چل جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انعام الرحمان کو تحفظ فراہم کیا جائے وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں۔ کرپشن ایک ناسور ہے مگر منی لانڈرنگ اس سے بڑا جرم ہے کیونکہ ایک تو کرپشن کی گئی دوسرا وہ رقم ملک سے باہر لے گئے۔

پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ جے آئی ٹی نے عید سے قبل اپنی 15 روزہ رپورٹ پیش کرے گی اور جس طرح تفتیش آگے بڑھی ہے امید ہے نتیجہ جلد آ جائے گا۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ہم نے رانا ثنااللہ سمیت دیگر رہنماوں کے متعلق ایک کیس سپریم کورٹ میں دائر کیا ہے اور کیس میں ان سیاستدانوں کے بیانات کی سی ڈیز پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی وقت بھی الیکشن یا ہنگامی صورت کا اعلان ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے لوگ کمر کس لیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں