مودی حکومت نے بھارت کی معاشی ترقی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا

معاشی ترقی ماپنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کے باعث حکومت معیشت کی سالانہ شرح نمو کو 7 فیصد قرار دیتی ہے جو حقیقت میں 4.5 فیصد رہی ہے

مودی حکومت نے بھارت کی معاشی ترقی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا
فوٹؤ بشکریہ ہندوستان ٹآیمز ویڈیو گریب

ممبئی : بھارت کے سابق اقتصادی مشیر اروند سبرامنیئن نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کی معاشی ترقی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ، سرکاری اعداد و شمارمعیشت کی سالانہ شرح نمو کو 7 فیصد قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقی شرح 4.5 فیصد رہی ہے۔


اروند سبرامنیئن کی تحقیق پر مبنی اس رپورٹ کو ہارورڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ نے شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کو معاشی ترقی کی بحالی کے لیے دباو¿ کا سامنا ہے۔ اروند سبرامنیئن نے کہا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے معاشی ترقی ماپنے کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب اس کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) بڑھا چڑھا کر تقریباً ڈھائی فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔ ادھر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اقتصادی مشیروں کی ٹیم نے سبرامنیئن کے اخذ کردہ نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی ان تمام نکات کا تفصیلی جواب دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق سبرامنیئن کی رپورٹ نے بھارت کی معاشی ترقی کے دعووں بارے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔بھارت کے سابق اعلیٰ ترین اقتصادی مشیر کے مطابق2018 ءمیں بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار دنیا بھر میں سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے مگر اقتصادی ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اقتصادی نمو کی شرح کا تعین کرنے کا نیا طریقہ کار درست نہیں ہے جس کے باعث یہ معیشت کی حقیقی تصویر پیش نہیں کرتی۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے 2015 ءمیں اپنی جی ڈی پی ماپنے کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا تھا۔بڑی تبدیلیوں میں سے ایک یہ تھی کہ جی ڈی پی کو اب بنیادی اخراجات کے بجائے مارکیٹ کی قیمتوں سے ماپا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو پہلے جی ڈی پی کا حساب کسانوں کو ان کی مصنوعات پر ملنے والی تھوک قیمتوں سے لگایا جاتا تھا مگر اب اس کا تخمینہ صارفین کی جانب سے ادا کیے گئے مارکیٹ نرخوں پر کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ بیس ایئر، یعنی جس سال کی قیمتوں سے موازنہ کیا جانا تھا کو 05-2004ءسے 12-2011ءمیں تبدیل کر دیا گیا تاکہ سہ ماہی اور سالانہ شرحِ نمو کا جائزہ لیا جا سکے تاہم اقتصادیات اور شماریات کے ماہرین اس طریق کار پر شروع ہی سے تنقید کرتے آئے ہیں۔

اور سبرامنیئن کے اس دعوے کہ 12-2011 سے 17-2016 کے درمیان معاشی ترقی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی نے ان تمام شکوک و شبہات کو تقویت دی ہے۔ جہاں سرکاری اعداد و شماربھارتی معیشت کی سالانہ شرحِ نمو کو 7 فیصد قرار دیتے ہیں، وہیں سبرامنیئن کے نزدیک یہ شرح حقیقیت میں تقریباً 4.5 فیصد رہی ہے اور2015 ءکے بعد سے کئی ماہرین نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت میں لگائے گئے معاشی نمو کے بلند تخمینوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ان کی حکومت کی جانب سے تیز شرحِ نمو کے دعوے کے باوجود 2017-18ءکے درمیان بے روزگاری کی شرح 45 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔بھارت کے مرکزی بینک کے سابق سربراہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق چیف اکنامسٹ رگھورام راجن نے بلند شرحِ بیروزگاری کی بناءپر سرکاری اعداد و شمار پر شکوک کا اظہار کیا ہے تاہم بھارت کی وزارتِ شماریات نے کہا ہے کہ حکومت مختلف شعبوں کی جانب سے معیشت میں کیے گئے تعاون کا معروضی تخمینہ لگاتی ہے اور ملکی جی ڈی پی کے تخمینے تسلیم شدہ طریقہ کار کے تحت لگائے جاتے ہیں تاہم وزارتِ شماریات کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جون 2016 ءکو ختم ہونے والے مالی سال میں بھارتکی جی ڈی پی کا تخمینہ لگانے کے لیے استعمال کیے گئے ڈیٹابیس میں موجود 36 فیصد کمپنیوں کا پتہ نہیں لگایا جا سکا یا پھر انہیں غلط زمروں میں شامل کیا گیا تھا۔حکومت نے خود بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کی جانب سے ڈیٹا اکھٹا کرنے کے طریقہ کار میں مسائل موجود ہیں۔

اروند سبرامنیئن نے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی ماہرین پر مبنی ایک آزاد پینل بھارت کے جی ڈی پی ڈیٹا کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نئی تحقیق کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی بحران کے بعد ماہرینِ شماریات جو عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ بھارتی معیشت گولی کی رفتار سے ترقی کرے گی، اس بیانیے کو ایک مزید حقیقت پسندانہ بیانیے میں تبدیل ہونا ہوگا جس میں معیشت ٹھوس ترقی تو کرے گی مگر یہ انتہائی تیز رفتار نہیں ہوگی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ وزیرِ اعظم مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جنہوں نے حال ہی میں دوسری مدت کے لیے انتخابات جیتے ہیں مگر ان پر معیشت کو بحال کرنے کے لیے کافی دباو¿ ہے۔متعدد حکومتی رہنما بھی اب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت اب تیز ترین رفتار سے ترقی کرنے والی معیشت نہیں ہے، گزشتہ پانچ سالوں میں معاشی ترقی کی سست ترین شرح کی وجہ سے اب یہ اعزاز چین حاصل کر چکا ہے۔اس صورتحال سے نہ صرف بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ کس طرح گزشتہ چند سالوں میں نافذ کی گئی معاشی پالیسیوں نے معیشت کی ایک غلط تصویر پیش کر کے اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہوگی۔

مثال کے طور پربھارت میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرحِ سود بلند رکھی گئی مگر اس سے قرضے حاصل کرنے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا جس سے کاروبار میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب بینکوں کو غیر وصول شدہ قرضوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑا جس سے پیسے تک رسائی مزید مشکل ہو گئی۔چنانچہ رواں سال جب معاشی ترقی رکنے لگی تو مرکزی بینک نے تین مرتبہ شرحِ سود میں کمی کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق ملازمتوں کی کمی اور ملک کو لاحق زرعی بحران ایسے دو بڑے چیلنجز ہیں جنہوں نے معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے۔ماہرین کے مطابق معیشت پر اعتماد کی بحالی کے ساتھ ساتھ فوری طور پر شماریاتی نظام کو از سرِ نو استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی جائزوں کے لیے تیزی سے ڈیٹا اکھٹا کیا جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ڈیٹا اکھٹا کرنے کے نظام میں جدت لانے کے لیے ورلڈ بینک کے ساتھ کام کر رہی ہے۔بھارتی معیشت کی مایوس کن صورتحال دیکھتے ہوئے سبرامنیئن کا بھی خیال ہے کہ حکومت کو معاشی سست رفتاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیزی سے کام کرنا ہوگا جس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

jav/hma/riz 1433