یہ دوستی نہیں

یہ دوستی نہیں

دوست ممالک کوقابو میں رکھنے کے لیے امریکہ اُنھیں سبق سکھاتا رہتاہے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں سبق سکھانے کی حکمتِ عملی کے ماضی کی طرح نتائج برآمد نہیں ہوتے بلکہ گاجر اور چھڑی کی حکمتِ عملی سے دوریاں بڑھنے لگی ہیںاورامریکہ پر اعتبار کی بجائے شکوک وشبہات کی نظر سے دیکھاجا نے لگا ہے دوست اپنے دوستوں کو سبق نہیں سکھاتے بلکہ مشکل کی گھڑی میں ساتھ دیتے ہیں یہ درست ہے کہ ریاستوں کے تعلقات مفادات کے تابع ہوتے ہیں جن میں اُتار چڑھائو آتا رہتا ہے لیکن دوست کو مشکل کی گھڑی میں تنہا چھوڑ نا یا اپنا وزن اُس کے دشمن کے پلڑے میں ڈال دینابھی دوستی نہیں مشکل میں دوست کو تنہا چھوڑنے یا دشمن کے ساتھ کھڑا ہونے سے جنم لینے والی بدمزگی کا اثر جلدی ختم نہیں ہوتا بدلے حالات میں تو اب یہ اور بھی نقصان دہ ہے کیونکہ ترقی پذیر ممالک کے پاس ایک سے بڑھ کر انتخاب موجود ہے جس کا شاید امریکہ کو زیادہ ادراک نہیں اگر ہوتاتو ماضی جیسی پالیسی نہ رکھتا امریکہ اور سعودی عرب تعلقات کے نبض شناس محمد الحمید اِس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ جو بائیڈن کو منتخب کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق بنیاد پرست بائیں بازو سے تھا اسی لیے منتخب ہوتے ہی انھوں نے اپنے ووٹروں کی مرضی کے مطابق ایجنڈ ا تشکیل دیا جس کی زد میںآ کر امریکہ سعودی تعلقات بھی خاص طور پر متاثر ہوئے توانائی کا بحران کم کرنے کے لیے اب شاید وہ اندرونِ ملک کے ساتھ ازسر نو امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی استحکام پر توجہ دیں کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے بغیر مضبوط شراکت داری کا تصور کرنا ممکن نہیں اور یہ کہ سعودی عرب سفارتی تعلقات میں کشیدگی کے باوجود تیل برآمد کرنے کا راستہ نکال سکتا ہے۔

جوبائیڈن سے حال ہی میں دریافت کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کادورہ کرنے والے ہیں اِس کا ایجنڈا کیا ہو گا؟ تو انھوں نے واضح کر دیا کہ ابھی دورے کا فیصلہ نہیں کیا اگر کیاتومملکت کے دورے کا ایجنڈا وسیع ہو گاتوانائی سے زیادہ بات چیت میں دیگر امور پرتوجہ ہو گی مگر جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ریاض سے کچھ وعدوں پر عملدرآمد کا انتظار کیا جارہا ہے تو انھوں نے معنی خیز لہجے میں یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ سعودیوں کے وعدوں کا توانائی سے تعلق نہیں بلکہ یہ سعودی عرب میں ہونے والی ایک بڑی ملاقات ہے جو بائیڈن کی اِس بات سے یہ مطلب اخذ کیا جارہا ہے کہ وہ توانائی سے زیادہ انسانی حقوق بہتر بنانے کا مطالبہ کریں گے لیکن ایسا کہنا جتنا آسان ہے عملی طورپربہت ہی مشکل ہے کیونکہ ایسا رویہ اختیار کرنے سے امریکہ ،اسرائیل ،عرب امارات اور بھارت کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون کا متوقع معاہدہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ عرب امارات کسی صورت سعودی پسند کے منافی جا ہی نہیں سکتا۔  

صدرجوبائیڈن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان ملاقات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سفارتی حوالے سے دوطرفہ تیاریاں جاری ہیں لیکن اِس ایک ملاقات سے دونوں ممالک میں موجود سفارتی سرد مہری کیا گرم جوشی میں ڈھل جائے گی؟ اِس حوالے سے فوری طورپر وثوق سے کچھ کہنا آسان نہیں حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ دونوں ہی ایک دوسرے کی کسی حد تک 

مجبوری ہیں چاہے دوسری جنگِ عظیم کے اختتام سے دونوں ممالک میں دفاعی تعلقات اُستوار ہیں جن میں وقت کے ساتھ اُتارچڑھائو بھی آتا رہا پھربھی دفاعی شراکت داری قائم رہی اِس شراکت داری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے دس ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے سے بامِ عروج پر پہنچادیاواشنگٹن اور ریاض کے تعلقات میں اِس حد تک بہتری آگئی کہ ترکی میں موجود سعودی سفارتخانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کا واقعہ بھی گرم جوشی متاثر نہ کر سکا مگر معاملات تب زیادہ بگڑے جب وہ دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے اور جو بائیڈن انتظامیہ نے دوست ممالک کو انسانی حقوق کا درس دیتے ہوئے ماضی کے واقعات سے جواب طلبی شروع کردی شاید واشنگٹن کا خیال یہ تھا کہ ایسا کرنے سے روس اور چین کو بھی سخت پیغام ملے گا لیکن توقع کے مطابق نتائج کے بجائے اِس پالیسی سے ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات میں دراڑ آگئی ساتھ ہی روس اور چین سے امریکی تعلقات خراب ہوتے گئے جواب معاشی اور تجارتی محاذ آرائی تک پہنچ چکے ہیں علاوہ ازیں عرب ممالک میں روسی مداخلت کے لیے حالات سازگار ہوتے گئے جس سے امریکہ کو کئی ایک  سبق ملے اول عربوں کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف اسرائیل پر انحصار درست نہیںدو م توانائی کا بحران اِس حدتک سارے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے کہ ریگولرپیٹرول کی قیمت 5ڈالر سے بڑھ گئی ہے قیمت میں ہونے والا اضافہ کب رُکے گا اِس بارے کچھ معلوم نہیں اسی لیے ریاض سے نرمی اختیار کی جارہی ہے سچ تو یہ ہے کہ توانائی کا حالیہ بحران جو بائیڈن کے ساتھ حکمران جماعت ڈیموکریٹک کی مقبولیت کو متاثر کررہاہے جس سے بچنے کے لیے جو بائیڈن کے پاس انسانی حقوق کے حوالے سے سخت گیر رویے کو نرم کرنے کے سواکوئی دوسراآپشن ہے ہی نہیں ۔

امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں کئی ایک چیلنج درپیش ہیں ایک توبڑھتی روسی مداخلت ہے دوسرا چین نے بھی عرب ممالک سے تجارتی روابط بہتر بنائے ہیں سعودی عرب سے ڈالر کے بجائے یو آن کرنسی میں تجارت کا معاہدہ ہونے کے قریب ہے علاوہ ازیں امریکہ توانائی کے بڑھتے اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے معاہدوں کو اپنے مفاد سے اہم آہنگ کرنا چاہتا ہے لیکن کیا یہ سب کچھ توقعات کے مطابق آسانی سے ہو جائے گا بادی النظر میں ریاض کی مخالفت کی صورت میںیہ آسان نظر نہیں آتاجو بائیڈن اور ولی عہد ملاقات میں امریکہ کو اپنے خراب رویے کی ایک تو کچھ وضاحت دینا ہو گی دوسرا سعودی عرب چاہے گا کہ واشنگٹن انسانی حقوق کی بات کر تے ہوئے ریاض کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے دونوں کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے جو بائیڈن کی ساکھ کوخطرات ہیں تو سعودی ولی عہد کو بھی اتحادی امریکہ کی ناراضی مشکل میں ڈال سکتی ہے اِس لیے دونوں معاہدے کرتے ہوئے محتاط رہیں گے کیونکہ ماضی میں اگر واشنگٹن نے سعودی بادشاہت پر دبائو ڈالا توجواب میں سعودیہ نے ڈالر کے بجائے دیگر کرنسی میں تجارت کے معاہدے شروع کر دیے اِس لیے بظاہر اتنی جلدی دونوں طرف سے اعتماد سازی کی نوبت آنے کا امکان کم ہے۔

موجودہ سعودی عرب دوسری جنگِ عظیم کے بعد کافی بدل چکا ہے قدامت پسندانہ اقدارکو آزادانہ بنانے کے لیے شہزداہ محمد بن سلیمان نے غیر متوقع اقدامات اُٹھائے ہیں زراعت ،صنعت کو ترقی دی ہے دفاعی حوالے سے بھی بہتر پوزیشن پر ہے لیکن سزائے موت کے طریقہ کار پر امریکہ کے تحفظات ختم نہیں ہو سکے اب جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے واشنگٹن کو یاد رکھناچاہیے کہ سعودیہ کے حکمران خاندان السعود کی نسل کے اقتدار کو خطرہ ہوتا ہے تو اِس سے خلیج فارس کے خطے میں تونائی کی حفاظت کا امریکہ منصوبہ بھی بری طرح متاثر ہو گا اِس لیے سعودی ضروریات اپنی جگہ، امریکہ اپنی اسٹریٹجک پوزیشن بہتر نہیں بناتا اور حماقتیں جاری رکھتاہے تویہ روس اور چین کو قدم جمانے کا موقع دینے کے مترادف ہو گا موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ریاض اور واشنگٹن دونوں ہی جنگ عظیم دوم کے بعد ہونے والے معاہدوں سے انحراف کے مرتکب ہیں جس سے نئی قوتوں کو خطے میں معاشی و تجارتی معاہدے کرنے کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھانے کی راہ ہموارہوئی اگر امریکہ عالمی طاقت ہے تو سعودیہ بھی عرب ممالک میںکافی اثر رسوخ رکھتا ہے قطر وغیرہ سے تعلقات بہتر بنانے کے بعد اُس کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے اِن حالات میں امریکہ کا نظرانداز کرنا حماقت ہی کہہ سکتے ہیں واشنگٹن کا تہران سے جوہری معاملے میں رابطے کے باوجود سفارتی تنائو برقرارہے اِس وقت امریکہ کے لیے سعودی حمایت ناگزیر ہے اِس میںبائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد کی ملاقات کہاں تک معاون ثابت ہوتی ہے جلد مطلع صاف ہو جائے گا۔

مصنف کے بارے میں