سب لال ہے بلکہ لالو لال ہے

 سب لال ہے بلکہ لالو لال ہے

سعادت حسن منٹو لکھتا ھے کہ میں شدید گرمی کے مہینے میں ھیرا منڈی چلا گیا.جس گھر میں گیا تھا وھاں کی نائیکہ 2 عدد ونڈو ائیر کنڈیشنڈ چلا کر اپنے اوپر رضائی اوڑھ کر سردی سے کپکپا رھی تھی.میں نے کہا کہ میڈم دواے سی چل رھے ھیں آپ کو سردی بھی لگ رھی ھے آپ ایک بند کر دیں تا کہ آپ کا بل بھی کم آئیگا تو وہ مسکرا کر بولی کہ، "اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".منٹو کہتے کہ کافی سال گزر گئے اور مجھے گوجرانوالہ اسسٹنٹ کمشنر کے پاس کسی کام کے لیے جانا پڑ گیا. شدید گرمی کا موسم تھا،صاحب جی شدید گرمی میں بھی پینٹ کوٹ پہنے بیٹھے ھوئے تھے اور 2 ونڈو ائیر کنڈیشنر فل آب و تاب کے ساتھ چل رھے تھے اور صاحب کو سردی بھی محسوس ھو رھی تھی.میں نے کہا کہ جناب ایک اے سی بند کر دیں تا کہ بل کم آئے گا تو صاحب بہادر بولے،"اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".منٹو کہتا کہ میرا ذھن فوراً اسی محلہ کی نائیکہ کی طرف چلا گیا کہ دونوں کے مکالمے اور سوچ ایک ھی جیسی تھی، تب میں پورا معاملہ سمجھ گیا۔یعنی اس ملک کے تمام ادارے ایسی ہی نائیکہ کی سوچ رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔۔۔۔۔!!

یہ واقعہ تب یاد آیا جب موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوںسابق حکومت کی طرح پٹرول کی قیمتوں میں تیسری مرتبہ اضافہ کیا اس موقع پر ہمارے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مسکرا کر چوتھی مرتبہ اضافہ کی نوید سنا دی اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں ۔اس وقت اسد عمر کی یاد بھی آئی جو آنے سے پہلے دعویٰ کرتے رہے کہ دو ماہ میں معیشت کو درست کر دوں گا لیکن ہر طرح ناکام ہوئے وہی حال مفتاح اسماعیل کا نظر آ رہا ہے وہ بھی آنے سے پہلے خوب دعوے کرتے تھے مہنگائی کا رونا روتے تھے ۔لیکن جونہی انھیں موقع ملا نہ وہ ڈالر کنٹرول کر سکے نہ پیٹرول دونوں شتر بے مہا کی طرح بڑھ رہے ہیں اور اس سب کا ملبہ وہ اسی طرح سابقہ حکومت پر ڈال رہے ہیں جیسے سابق حکومت ہر ملبہ اپنے سے پہلے والی حکومت پر ڈالتی رہی ۔سوال یہ ہے کہ اگر آپ کچھ کر نہیں سکتے تھے تو کیا عوام کو تکلیف دینے آئے ہیں ۔ یعنی اس کا مطلب یہی ہے کہ سب لال ہے بلکہ لالو لال ہے ۔مہنگائی ہونے کی وجہ معیشت کی خرابی بتائی جاتی ہے سوال یہ ہے کہ معیشت کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے یقینا ہماری تمام سابقہ حکومتیں ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ ڈنگ ٹپائو کام کیا پاکستان کو مستقل بنیادوں پر ان مسائل سے نکالنے کی کسی نے سنجیدہ کوشش نہیں کی عوام بے چارے تو قصور وار نہیں ہیں ۔گزشتہ دنوں ایک معروف صنعتکار نے بتایا کہ پاکستان کی ٹیم سعودی عرب گئی تو انھوں نے کہا کہ یہ کیا آپ ہر چند سال کے بعد ہم سے مانگنے آ جاتے ہیں آپ کوئی پلان لائیں ہم تیس چالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری آپ کے ملک میں کر دیتے ہیں تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو  جائے ۔اللہ کرے کہ ہمارے حکمران اس بارے میں سوچیں اور پاکستان کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں یقینا اگر کوشش کریں گے تو پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں اگر نیت سے کوشش ہو تو مسائل باآسانی حل ہو سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ کوشش کرے گا کون ۔ماضی کی طرح ایسا نہ ہو کہ اگر حکومت اس سلسلے میں کوئی تجویز بنا بھی لیتی ہے تو وہ سرخ فیتہ کی نذر ہو جائے اور اس دوران حکومت کا وقت پورا ہو جائے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت چند کاروباری افراد کا پینل بنائے انھیں مکمل با اختیار بنا کر سرخ فیتہ سے آزاد کر کے مذاکرات کے لئے بھیجے اور یہ کاروباری افراد سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کریں حکومت انھیں مکمل سہولیات فراہم کرے کوئی وجہ نہیں ہے کہ سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک سے سرمایہ کاری نہ آئے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر طرح کا ٹیلنٹ موجود ہے ماہر معاشیات بھی بہت ہیں ڈاکٹر محبوب الحق جیسوں نے بھی اسی دھرتی سے جنم لیا تھا جن کے بنائے ہوئے منصوبوں سے دنیا کے بہت سے ممالک مستفید ہو رہے ہیں کیونکہ انھوں نے ان منصوبوں پر عمل کیا تھا بدقسمتی سے ہم نہیں کر سکے جس کے باعث ہم آج بھی وہیں موجود ہیں ، ابھی بھی وقت ہے حکومت وقت کو چاہئے کہ باتیں کرنے کے بجائے عملی کام کرے ماہر معاشیات کا ایک پینل بنایا جائے جس میں پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر سب  ماہرین کو شرکت کی دعوت دی جائے اور تمام ماہرین معاشیات صرف پاکستان کے لئے اس میں شریک ہوں حکومت انھیں ہر طرح کی سہولت دے کوئی وجہ نہیں کہ چند دن میں پاکستان کی تمام ترمشکلات کا حل نہ نکالا جا سکے پھر ان تجاویز پر عمل کر کے پاکستان کو آئی ایم ایف کے دجالی چکر سے نکالا جائے تاکہ عوام کو کوئی سکھ کا سانس مل سکے ورنہ اس وقت تو صورتحال ایسی ہے کہ کہ موجودہ صورتحال میں عوام کو کوئی ریلیف نہ دیا گیا تو خدانخواسطہ ملک میں خود کشیوں کا سلسلہ نہ شروع ہو جائے۔اب یہ موجودہ حکومت پر منحصر ہے کہ کہ وہ خودکشیاں چاہتی ہے یا خوشحال عوام یقینا حکومت بہتری ہی چاہے گی لیکن اس کے لئے باتوں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے گھنٹوں وزراء کی ٹی وی پر لائیو آ کر درس دینے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔

مصنف کے بارے میں