ملکی معیشت کی تباہی کی داستان

ملکی معیشت کی تباہی کی داستان

شمس الحق

2017 میں جب نواز شریف کو ہٹایا گیا تو اس سے ملکی معیشت غیر یقنی سیاسی صورتحال کی وجہ سست روی کاشکار ہوئی۔

2018 میں جب عمران خان کو لایا گیا تو غیر یقینی کی صورتحال میں اضافہ ہوا تو اداروں نے ایک صفحے پر آکر ساتھ چلنے اور مکمل ساتھ دے کر اعتماد بحالی کی کوشش کی۔ لیکن عمران خان کے U-Truns  نے تاجروں کا اعتماد مکمل کھو دیا۔ یوں معیشت کو پٹری پر نہ لاسکی۔

2019 میں عمران خان نےIMF میں جانے میں دیر کردی۔ پھر IMF سےسخت معاہدہ کرا پڑا، یوں معیشت کو نا قابل برداشت نقصان اٹھانا پڑا اور معیشت کی بحالی کی جانب بڑھنے کی شروعات ہوئی۔ فیصلے میں یہ دیری ہی معیشت میں پر وہ حملہ تھا جس نے آج تک سنبھلنے نہیں دیا۔

اس ہی سال باقر رضا کو اسٹیٹ بینک کے گورنر بنانے اور ڈالر کو آزاد کرنے کی شرط نے بیمار معیشت کو مزید لاغر کردیا۔

2020 میں جب عمران خان صاحبIMF  کے سخت معاہدوں پر عملدآمد نہیں کر پارہے تھے تو معاہدے کو جاری رکھنے لئے مزید سخت شرائط تسلیم کر لیں۔ جس پر مکمل عملدآمد نہ ہوسکا۔

2021 میں سخت ترین شرائط پر کچھ بات بنی لیکن اس میں جو شرائط مانی گئیں ان پر عملدآمد انتہائی مشکل یا عوام کش تھا۔ لہذا ان پر بھی عملدآمد نہ ہوسکا۔ اور IMF  کو منانے اور کچھ بات کرنے کے لئے نئی ٹیم کی ضرورت پڑ گئی۔ یوں عمران خان کا جانا ٹھر گیا۔ اور سال کے آخر میں تمام اسٹیک ہولڈز کے درمیان ملک کو چلانے کی غرض سے اس وقت کی اپوزیشن سے  معاملات طے ہوئے اور حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حکمت عملی طے کرلی گئی اور تمام لوگوں کو منایاگیا۔

2022 میں ملک میں تبدیلی کی لہر نے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور عمران خان کے جاتے جاتے ملک اور معیشت دشمن فیصلوں نے معیشت کی تختے پر ڈال دیا۔ یوں فیصلہ مزید عمران خان کیخلاف ہو گیا ۔ پھر آخر کار نئی حکومت کو تشکیل دے دیا گیا۔ جو IMF کے ساتھ فوری مزاکرات میں چلی گئی۔ عمران خان نے مخالفیں کو ٹف ٹائم دینے سے ملک میں موجود سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کو بہت بڑھا دیا۔

وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے نکلتا رہا اور سخت فیصلوں سے انتہائی سخت فیصلوں کا وقت سر پر آن پہنچا۔ اب ملکی کی معیشت تختے سے واپسی کا سفر کر پائے گی یا قبر میں اترے گی۔ اس کا فیصلہ آنے ولا وقت بتائے گا۔ لیکن اس ملک میں عیاشی کرنے والے حکمران ، بیوروکریسی ، افسران اور تمام اشرافیا کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ اگر ابھی بھی ملک کے لئے نہیں سوچا اور ایک پیچ پر سب جمع نہ ہوئے تو سخت فیصلے اور عوام کا خون نچورنا سب بے کار ہوجائے گا۔ پھر بیماری اور اپنوں(ماں باپ/ اولاد) کے پیٹ کی آگ سب کچھ جلا دے گی۔ عوام کو کنٹرول نہیں کیا جاسکے گا۔ سری لنکا ۔۔ مصر ۔۔ لبنان سب کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

مصنف کے بارے میں