پاکستانی ٹیم کے کوچ باب وولمر کو بچھڑے 10 سال ہو گئے

پاکستانی ٹیم کے کوچ باب وولمر کو بچھڑے 10 سال ہو گئے

لندن: ویسٹ انڈیز میں ورلڈ کپ 2007 کے دوران پراسرار موت سے آج بھی پردہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ ورلڈ کپ 2007 میں پاکستان ٹیم آئرلینڈ سے ہار کے بعد باہر ہوئی تو اسے میگا ایونٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرارد یا گیا جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں پرستاروں کا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور کھلاڑیوں کے پتلے جلائے گئے۔ چند گھنٹے بعد ہی جمیکا کے ہوٹل میں کوچ باب وولمر بے سدھ پائے گئے تھے۔ 18 مارچ کی صبح کنگسٹن کے اسپتال نے موت کی تصدیق کر دی۔


دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے بکیز کی کارروائی، زہر خورانی، کسی دلبرداشتہ پرستار کے حملے سمیت کئی افواہیں گردش میں رہیں جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں پر بھی شک کیا گیا۔ جمیکن پولیس نے پہلے اسے قتل قرار دیا۔ تفتیش شروع ہوئی تو 3 ماہ بعد سانس رکنے سے ہونے والی طبعی موت بتاتے ہوئے معاملہ ختم کر دیا گیا۔

علاوہ ازیں پاکستان کی آئرلینڈ سے شکست کے بعد باب وولمر کا آخری انٹرویو کرنے والی خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ ناقص ترین کارکردگی پر کوچ پریشان ضرور تھے لیکن ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ ان کی صحت خراب یا سانس لینے میں رکاوٹ محسوس کر رہے ہوں۔

انھوں نے یہ ضرور کہا تھا کہ ٹیم کی کوچنگ چھوڑ دوں گا۔ معاملات یہیں پر ختم کرنا بہتر ہو گا تاہم وہ اس فیصلے کا اعلان میڈیا کے سامنے نہیں بلکہ بعد میں کرنا چاہتے تھے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں