ایسا شہد جو خطرناک ترین جراثیموں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

سڈنی: انسانی جسم میں بعض دفعہ ایسے جراثیم شامل ہو جاتے ہیں جو کسی بھی اینٹی بائیوٹک دوا سے ختم نہیں ہوتے۔ایسے چراثیموں کے خاتمے کیلئے آسڑیلوی سائنسدانوں نے حیران شہد متعارف کروایا ہے ۔ سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ نیوزی لینڈ میں پایا جانے والا ”مانوکا شہد“ ہر قسم کے جرثوموں کو ہلاک کرسکتا ہے ۔

ایسا شہد جو خطرناک ترین جراثیموں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

سڈنی: انسانی جسم میں بعض دفعہ ایسے جراثیم شامل ہو جاتے ہیں جو کسی بھی اینٹی بائیوٹک دوا سے ختم نہیں ہوتے۔ایسے چراثیموں کے خاتمے کیلئے آسڑیلوی سائنسدانوں نے حیران شہد متعارف کروایا ہے ۔ سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ نیوزی لینڈ میں پایا جانے والا ”مانوکا شہد“ ہر قسم کے جراثیموں کو ہلاک کرسکتا ہے ۔


بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مانوکا شہد میں قدرتی طورپرغیرمعمولی جراثیم کش صلاحیت پائی جاتی ہے اور یہ ”ایم آر ایس اے“ کہلانے والے ان خطرناک جراثیموں تک کو با آسانی ہلاک کرسکتا ہے جن میں اینٹی بایوٹکس (جراثیم کش دواو¿ں) کے خلاف مزاحمت مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور آج کوئی بھی دوا ان پر اثرانداز نہیں ہوتی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اپنی اسی مزاحمت کی بناءپر یہ بیکٹیریا اس وقت عالمی طب کے اہم ترین مسائل میں شامل ہوچکے ہیں اور مانوکا شہد ان جرثوموں تک کو آسانی سے ہلاک کردیتا ہے البتہ اب تک حتمی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس شہد میں ایسی کونسی چیز شامل ہوتی ہے جو اسے غیرمعمولی طور پر جراثیم کش خصوصیات کا مالک بناتی ہے۔