کراچی میں تبدیلی کی ضرورت،لوکل گورنمنٹ کا نیا نظام چاہیے،عمران خان

کراچی میں تبدیلی کی ضرورت،لوکل گورنمنٹ کا نیا نظام چاہیے،عمران خان
سکرین گریب

کراچی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور شہر میں لوکل گورنمنٹ کا نیا نظام چاہیے،ہم چاہتے ہیں کراچی میں میئر کا براہ راست انتخاب کیاجائے۔


عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں نچلی سطح پراختیارات منتقل کیے ہیں اورسب سے اچھا بلدیہ کا نظام کے پی کے میں ہے،جو پیسہ کراچی کے لوگوں پر خرچ ہونا چاہیے وہ پیسہ دبئی جارہاہے۔

سربراہ پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ جو سیاسی اتحادپچھلے30 سال سے چلاآ رہاہے وہ کراچی کے مسائل نہیں حل کرسکا،سندھ میں لوگل گورنمنٹ کا نظام کراچی کے مسائل کبھی حل نہیں کر سکتا،سمجھتا ہوں کہ کراچی کو موقع ملنا چاہیے،کراچی میں سیوریج کا پانی کھیتوں میں دیا جارہا ہے، ایک تبدیلی کی ضرورت ہے اورجو سسٹم چلا آرہا ہے ہے اس کا فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں لوکل گورنمنٹ کا ایک نیا سسٹم چاہیے جبکہ پولیس سسٹم کو بہتر بنائیں گے،سب کو خیبر پختونخواکے لوکل گورنمنٹ سسٹم کامعلوم ہے،جب تک مکمل سسٹم نہیں آئے گا کراچی کے مسئلے حل نہیں ہوں گے اور ہم کراچی کے تمام مسائل کے حل کیلئے ایک مکمل سسٹم دیں گے۔

میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اورنوازشریف ملکی حالات کے ذمے دار ہیں اور2018 میں دونوں وکٹیں اکٹھی گریں گی جبکہ جو پہلے جماعت تھی اس کا لیڈر لندن میں بیٹھ کر حکومت کرتا تھا۔

قبل ازیں کراچی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شہرقائد میں انٹری دیتے ہی پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت پر باﺅنسر برسانے شروع کردیئے ہیں اور کہا کہ بلاول بھٹو نے ایک گھنٹہ بھی محنت کش کی طرح کا م نہیں کیا، آصف زرداری سے پوچھیں کہ بغیر محنت کئے ارب پتی کیسے بن گئے۔

عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی دس سال سے حکمرانی کر رہی ہے لیکن صوبے میں کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں،عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، بے بی بلاول سے پوچھنا چاہتا ہوں 10 سال کراچی میں آپ کی حکومت رہی لیکن آپ کراچی والوں کو پانی بھی نہیں دے سکے.

دس سال میں کراچی اور اندرون سندھ میں کوئی ایک چیز بتائیں جو آپ نے ٹھیک کی ہو۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے کراچی کے حالات پر بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی ملا ہوا ہے، شہر میں ساڑھے6سو مقامات ہیں جہاں سے کھیتوں کو پانی دیا جارہا ہے ان میں سیوریج کا پانی ملا ہے۔