جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی براہ راست کوریج،سپریم کورٹ میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی براہ راست کوریج،سپریم کورٹ میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ
کیپشن:   میڈیا اتنا آزاد ہے کہ ساری خبریں عمران خان اور شیخ رشید سے شروع ہوتی ہیں سورس:   file

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بنچ نے سماعت  کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کی براہ راست کوریج کے حوالے سے دلائل دیے۔اس حوالے سے سماعت مکمل ہوگئی اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔پی ایف یو جے نے بھی جسٹس قاضی کے دلائل کے حمایت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ حکومت ججوں کے پیچھے پڑنے، ججوں کی جاسوسی کرنے کے بجائے اپنا کام کرے ۔ میں اکیلا ہوں، اکیلا ہی کھڑا رہوں گا چٹان کی طرح۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیر قانون نے درخواست کی مخالفت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے حکومت صدر اور اٹارنی جنرل کی طرف سے مخالفت کی۔  کبھی نہیں کہا کہ تمام مقدمات میں براہ راست کوریج ہو۔  صرف اپنے کیس کی براہ راست کوریج کی استدعا کی ہے۔  دکھانا چاہتا ہوں عدالت سب کو عوامی سطح پر قابل احتساب بناتی ہے۔  

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جسٹس عمر عطابندیال کے علاوہ سب ججز میرے جونئیر ہیں۔ پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ جونیئر جج کبھی سینئر کے خلاف فیصلہ نہیں دیں گے ۔کہا گیا عدالت معاملہ فل کورٹ میٹنگ میں بھجوا دے۔ اگر چیف جسٹس فل کورٹ میٹنگ ہی نہ بلائیں تو کیا ہو گا؟ دو ججز میرا کیس سننے سے معذرت کر چکے ہیں۔ تین ججز سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  قرار داد پاکستان پر لوگوں نے ملک بنایا جو ڈکٹیٹروں نے دو لخت کردیا۔بلوچستان نے پاکستان بنا کر دکھایا۔ ضیاء الحق اور مشرف کا نام لینے سے بھی لوگ ڈرتے ہیں ۔ہم انہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم اس ملک کے نوکر ہو۔اللہ تعالیٰ کو تکبر بلکل پسند نہیں نہ اسکی معافی ہے۔ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسے فوجی آمروں نے ملک تباہ کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے مزید کہا کہ یہ بھاشن نہ دیں کہ قوم کو عدالتی زبان سمجھ نہیں آتی۔ کوئی عربی نہیں سمجھتا لیکن پھر بھی مسلمان بن گیا۔حکومتی وکیل قانونی گفتگو کریں ڈرامے بازی نہ کریں۔ ہر شخص اپنے بچے کو انگلش سکول میں بھیجتا ہے۔لسانی کارڈ کے استعمال نے ملک کو تباہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ  ججز فیصلوں سے بولتے ہیں تو میڈیا کو عدالت سے باہر نکال دیں ۔میڈیا کو فیصلہ نہ کرنا دیں میری کونسی بات چلانی ہے کونسی نہیں۔ فیصلوں سے بولنا ہے تو فیصلے بعد میں میڈیا کو جاری کردییے جائیں۔ میڈیا اتنا آزاد ہے کی ساری خبریں عمران خان اور شیخ رشید سے شروع ہوتی ہیں۔ میڈیا اتنا آزاد ہے تو کل کوئٹہ سے لانگ مارچ کا فیصلہ کیوں کیا۔