طیبہ تشدد کیس، راجا خرم نے صلح نامہ مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا

طیبہ تشدد کیس، راجا خرم نے صلح نامہ مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا

اسلام آباد: طیبہ تشدد کیس میں ایک اور نیا موڑ سامنے آ گیا۔ او ایس ڈی بنائے گئے جج راجا خرم نے صلح نامہ مسترد کر کے  فرد جرم کے 10 مئی کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ راضی نامہ مسترد کرنے اور فرد جرم عائد کرنے سے متعلق سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کیا جائے۔عدالت نے اپیل کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا جس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کرے گا۔ 


16 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے گھریلو تشدد کا شکار بننے والی کمسن ملازمہ طیبہ کے والدین اور ملزمان کے درمیان صلح نامہ کو مسترد کرتے ہوئے نامزد ملزمان راجا خرم علی اور اہلیہ ماہین ظفر پر فرد جرم عائد کر دی تھی لیکن دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا جس پر عدالت نے 19 مئی کو گواہوں کو طلب کر رکھا ہے۔

یاد رہے سپریم کورٹ بچی کے والدین کی جانب سے جمع کرائے گئے اسی طرح کے صلح نامے کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ واضح رہے 29 دسمبر 2016 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشنز جج راجہ خرم علی خان کے گھر سے مبینہ طور پر تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کو پولیس نے بازیاب کرایا تھا اور بعد ازاں راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں