امریکا نے ایرانی عہدیداروں پر نئی اقتصادی پابندی عائد کر دی

امریکا نے ایرانی عہدیداروں پر نئی اقتصادی پابندی عائد کر دی

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے میزائل پروگرام کے ساتھ تعلق میں بعض اہلکاروں اور چینی کاروباروں پر پابندیوں کا اعلان کر دےا اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اشیا فروخت کرنے والی کسی بھی امریکی کمپنی پر عائد پابندی معطل رہے گی۔


محکمہ خزانہ کی جانب سے تازہ پابندیاں انتہائی مخصوص ہیں اور ان کے تحت ایران کے دو دفاعی حکام، میزائل پروگرام میں مدد فراہم کرنے والے سپلائرز اور شام میں صدر بشار الاسد کو دی جانے والی ایرانی امداد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرتضی فرستابور اور رحیم احمدی کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

مسٹر فرستابور اسد رجیم کے ماتحت ایک ایجنسی کو دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے میں ملوث رہا ہے جبکہ رحیم احمدی ‘شہید باقری‘ ایران میں بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاون گروپ کا ڈائریکٹر ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں ایران کے جوہری معاہدے پر شدید تنقید کرنے کے باجود ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے معاہدے کی توسیع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی 2015 میں ایرانی جوہری پرواگرام سے متعلق ایران اور دنیا کی چھ عالمی قوتوں کےدرمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ تھیں۔ماضی میں صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’بدترین معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے میں پابندیوں میں نرمی میں توسیع کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران میں کل صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں