وہ ممالک جنہوں نے عالمی عدالت کے فیصلوں کو ٹھکرا دیا

وہ ممالک جنہوں نے عالمی عدالت کے فیصلوں کو ٹھکرا دیا

لاہور:عالمی عدالت نے حتمی فیصلے آنے تک کلبھوشن یادیو کی پھانسی روکنے کا حکم جاری کیا ہے ،فی الحال عالمی عدالت میں بھارت کا عارضی مقصد پورا ہو گیا۔ اس سے پہلے بھی عالمی عدالت میں مختلف ممالک کے کیس سنیں گئے ہیں جنہیں متعدد ممالک نے عالمی عدالت کے فیصلوں کو کوتسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی مرضی یا ملکی عدالتوں کے فیصلوں کو ہی برقرار رکھا۔ چین اور فلپائن کے درمیان جنوبی چین کے جزائر پر کیس میں عالمی عدالت نے فلپائن کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا تھا جس پر چین نے عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور چین کے صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا چین کی خود مختاری اس فیصلے سے متاثر ہوتی ہے چنانچہ عالمی عدالت کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔


2004میں عالمی عدالت نے اسرائیل کے خلاف فیصلہ دیا، پندرہ ججوں کے پینل نے اپنے فیصلے میں لکھاتھا فلسطین کی سرزمین پر باڑ لگا نا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس باڑ لگانے سے فلسطینیوں کو ہونے والا نقصان بھی پورا کیا جائے لیکن اسرائیل نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور  اسرائیل کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا عالمی عدالت کا یہ فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے اور ہم باڑ لگائیں گئے۔

امریکانے بھی میکسیکو کے معاملے پر عالمی عدالت کا فیصلے کو مسترد کر دیا  تھا، امریکی سپریم کورٹ نے میکسیکو کے 51شہریوں کی اپیل مسترد کر دی تھی جن میں سے زیادہ تر امریکا میں موت کی سزا پا چکے تھے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ امریکی عدالت کسی بین الاقوامی قانون کی پابند نہیں ہے2003. میں میکسیکو یہ کیس عالمی عدالت میں لے گیا جس میں بنیاد بنائی گئی تھی کہ میکسیکو میں چونکہ موت کی سزا نہیں ہے. اس لئے ویانا کنونشن کے تحت کوئی غیر ملکی کسی اور ملک میں قید ہو تو دوسرے ملک کا فر ض ہے کہ وہ کونسلر رسائی فراہم کرے اور جرم کے بارے میں اگاہ کیا جائے۔جواب میں صدر بش نے باقاعدہ عالمی عدالت کو دھمکی دی اور کہا کہ امریکا کے پاس عالمی عدالت کے علاوہ بھی آپشن موجود ہیں جس کے بعد  امریکا نے عالمی عدالت کا فیصلہ قبول نہیں کیا۔

2014میں عالمی عدالت نے جاپان کو ہدایت کی تھی کہ جاپان جنوبی سمندروں میں وہیل پروگرام کو روک دیں لیکن جاپان نے عوامی سطح پر عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔