عالمی عدالت میں کلبھوشن کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ، مریم اورنگزیب

عالمی عدالت میں کلبھوشن کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: وزیرمملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نےاسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت میں کلبھوشن کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔قومی سلامتی سے متعلق امور پر سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے.انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی پرکوئی سمجھوتا نہیں کیاجائےگا اور عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کومنطقی انجام تک پہنچایاجائےگا.پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں بہترین انداز میں کیس لڑا .اپوزیشن سمیت سب کو قومی مفاد کےفیصلے پرمتحد ہوناچاہیے.اپوزیشن قومی مفاد کے معاملات پر سیاست نہ کرے .


یاد رہے کہ عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کی پھانسی کو اس وقت تک روک دیا ہے جب تک حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا ۔ عالمی عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پاکستان کو حکم دیا کہ حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہ دی جائے۔جج رونی ابراہم نے بھارت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی بھی دینی چاہیئے۔

کلبھوشن یادیو پر عالمی عدالت کا فیصلہ :

جج  کا فیصلہ پڑھتے ہوئے یہ بھی  کہنا تھا کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یادیو بھارتی شہری ہے اور پاکستان بھی یہ مانتا ہے لیکن عدالت صرف اسی صورت حتمی فیصلہ سنا سکتی ہے جب عدالت کا اختیار ثابت کیا جا سکے اور  بھارت کے مطالبے اور عدالتی اختیار کے درمیان لنک موجود ہے۔ فیصلے میں کہا گیا پاکستان اور بھارت دونوں ویانا کنونشن کے رکن ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت میں سے کوئی بھی ویانا کنونشن سے انکار نہیں کرتا ۔  آرٹیکل 1 کے تحت عدالت کے پاس ویانا کنونشن کی تشریح میں تفریق پر فیصلہ دینے کا اختیار ہے لیکن  ابھی پتا نہیں کہ قانون کے مطابق یادیو نے اپنی سزا کیخلاف اپیل کی یا نہیں۔

دوسری جانب دفترِ خارجہ کی جانب سے اس فیصلہ کا شدید ردعمل سامنے آ یا ہے ۔نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں عالمی عدالت کا کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور سامتی کے معاملات پر عالمی عدالت کا دائرہ کار تسلیم نہیں کرتے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف پنجاب نے بھی اس فیصلے پر کڑی تنقید ی ہے اور پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد پیش کی ۔ مذمتی قرارداد اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے جمع کرائی۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں۔ کیس میں عالمی عدالت انصاف کا دائرہ اختیار مان لینا حماقت ہے.

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں