بوڑھے ہوتے باپ اور جوان ہوتے بیٹے کے تعلقات

بوڑھے ہوتے باپ اور جوان ہوتے بیٹے کے تعلقات

مشرقی کلچر میں گھر سکون، محبت اور احترام کی علامت کہلاتا ہے۔ انہی خوبیوں کی بنا پر گھر کو زمین پر جنت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مشرقی کلچر کا وہ گھر کئی وجوہات کی بنا پر اب بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ اِن میں سے بعض ایسے ہیں جو تقریباً ہرگھر کا مسئلہ ہیں لیکن اُن کے بارے میں غوروفکر کرنے کی بجائے صرف شدید ردعمل کا سامنا کیا جاتا ہے یا شدید ردعمل دیا جاتا ہے جس کے نتائج عموماً خوفناک ہوکر گھر کی جنت کو دوزخ میں بدل دیتے ہیں۔ حالانکہ ایسے ایشوز پر تھوڑا سا سوچ بچار کرلیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ مسائل صرف آج کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ یہ انسانی فطرت کے ساتھ ازل سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہی میں ایک شدید مسئلہ بوڑھے ہوتے باپ اور جوان ہوتے بیٹے کے درمیان تعلقات کا ہے۔ نوبل انعام یافتہ مصنف ہرمن ہیسے نے ہزاروں برس پہلے صرف امن اور آشتی کی بات کرنے والے گوتم بدھ کی زندگی پر ایک شاہکار ناول ’’سدھارتھــ‘‘ لکھا۔ اس ناول میں دنیا کو تحمل، صبر اور برداشت کا درس دینے والے سدھارتھ کے ساتھ اس کے جوان ہوتے بیٹے کے تعلقات کی منظرکشی بھی کی گئی ہے۔ مصنف نے بتایا کہ سدھارتھ نے اپنے بیٹے کے لیے بہت کچھ کیا۔ وہ اس کے لیے ہمیشہ بہترین کھانے چن کر الگ رکھ لیتا۔ جب وہ لڑکا اس کے پاس آیا تھا تو سدھارتھ نے اپنے آپ کو بھاگوان اور دھنوان جانا تھا مگر جوں جوں وقت گزرتا جاتا لڑکا تب بھی نامانوس اور چڑچڑا ہوا رہتا۔ جب وہ گھمنڈی، ہٹیلا، خودسر اور سرکش ثابت ہوتا، جب وہ کام سے دور بھاگتا، جب وہ بوڑھوں کی کوئی عزت نہ کرتا اور سدھارتھ کے دوست واسودیو کے درختوں سے پھل چرا کے کھا جاتا، تب سدھارتھ کو احساس ہونے لگا کہ اس کی قسمت میں کوئی سکھ چین نہیں مگر وہ اپنے بیٹے کو بہت چاہتا تھا اور اس کی محبت میں اُس کے دیئے گئے دکھوں اور کٹھنائیوں کو اپنے سکھ چین پر ترجیح دیتا تھا۔ جب سے چھوٹا سدھارتھ کٹیا میں آیا تھا دونوں بڈھے کام بانٹ لیا کرتے تھے۔ واسودیو کشتی کو سنبھال لیتا اور سدھارتھ کٹیا اور دھان کے کھیت اپنے ذمے لے لیتا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے بیٹے کے 

پاس رہ سکے۔ کئی مہینوں تک سدھارتھ صبر کے ساتھ اس بات کا منتظر رہا کہ اُس کا بیٹا اس کو سمجھ لے گا، اس کی محنت کو قبول کرلے گا اور اس کا جواب محبت سے دے گا۔ کئی مہینوں تک واسودیو یہ ماجرا دیکھتا رہا، انتظار کرتارہا اور چپ رہا۔ آخر جب ایک دن چھوٹا سدھارتھ اپنی نافرمانی اور گستاخی سے باپ کو دق کررہا تھا اور اس نے چاول کے پیالے توڑ ڈالے تو شام کے وقت واسودیو اپنے دوست کو ایک طرف الگ لے گیا اور کہا یہ نوجوان پرندہ دوسری زندگی اور دوسرے آشیانے کا ہے۔ واسودیو اور سدھارتھ کے لیے ان کی کٹیا کے پاس بہتا دریا ایک روحانی استاد کی حیثیت رکھتا تھا۔ واسودیو نے سدھارتھ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ میں نے دریا سے پوچھ لیا ہے۔ میرے دوست میں نے کئی بار پوچھا اور دریا ہنس دیا۔ دریا مجھ پر ہنسا اور تم پر بھی ہنسنے لگا۔ دریا ہماری نادانی پر ہنستے ہنستے لہرانے لگا۔ سدھارتھ نے دھیرے سے دکھ سے کہا میں اپنے بیٹے سے کیسے بچھڑ سکتا ہوں۔ میں اس کے دل تک پہنچنا چاہ رہا ہوں۔ میں اپنی محبت اور اپنے صبر سے اس کا دل جیت لوں گا۔ ایک دن دریا اس سے بھی ہم کلام ہوگا۔ واسودیو نے کہا کہ مجھے پتا ہے تم اس سے سختی نہیں برتتے۔ میرے دوست لیکن کیا تم اسے اپنی محبت کی زنجیر نہیں پہنا رہے؟ کیا تم اسے روزانہ اپنی نیکی اور اپنے صبر سے شرمندہ نہیں کرتے؟ کیا تم اس گھمنڈی، بگڑے بچے کو اس ٹوٹی پھوٹی کٹیا میں دو بڈھوں کے ساتھ نہیں رکھے ہوئے جن کے لیے چاول بھی نعمت ہیں اور جن کے خیالات اس کے جیسے نہیں ہیں، جن کے دل بوڑھے ہوچکے ہیں اور جن کی دھڑکنوں کا ڈھنگ اس سے جدا ہے؟ کیا وہ ان سب باتوں کے سبب مجبور نہیں؟ کیا یہ نوجوان کے لیے سزا نہیں ہے؟ سدھارتھ نے پریشان ہوکر نگاہیں زمین پر جھکا دیں۔ پھر ایک دن ایسا آیا جب چھوٹے سدھارتھ نے وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو اس کے من میں تھا اور کھلم کھلا اپنے باپ کے خلاف بول اٹھا۔ باپ نے اس سے کہا تھا کہ جاکر تنکے اکٹھے کرلائو مگر وہ کٹیا سے باہر نہیں نکلا، وہیں سرکش بنا غصے کے عالم میں کھڑا رہا، زمین پر پیر پٹخنے لگا اور مٹھیاں بھینچ لیں اور باپ کے لیے اپنی نفرت اور حقارت اس کے منہ پر ظاہر کرنے لگا۔ وہ چیخا، خود اکٹھے کرو اپنے تنکے۔ اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ میں تمہارا نوکر نہیں ہوں۔ مجھے پتا ہے تم مجھے نہیں مارتے، تم میں ہمت نہیں ہے۔ اپنی پارسائی اور مروت سے مجھے شرمندہ کرنا چاہتے ہو۔ تم چاہتے ہوکہ میں تم جیسا بن جائوں۔ اتنا ہی پارسا، نیک اور دانا مگر صرف تم کو چڑانے کی خاطر میں چور اور خونی بننا اور دوزخ میں جانا پسند کروں گا مگر تم سا ہرگز نہیں بنوں گا، مجھے نفرت ہے تم سے۔ پھر وہ وہاں سے بھاگ گیا اور بہت دیر بعد شام پڑے واپس آیا۔ اگلی صبح وہ غائب ہوگیا۔ دونوں بڈھوں نے کٹیا سے باہر نکل کر دیکھا کہ ان کی کشتی دریا کے دوسرے کنارے پر ہے۔ وہ معاملہ سمجھ گئے اور کسی طرح کشتی کے پاس پہنچے۔ واسودیو نے سدھارتھ کو بیٹے کے پیچھے جانے سے روکا مگر سدھارتھ بیٹے کی تلاش میں جنگل میں نکل گیا۔ بہت لمبے عرصے تک جنگل میں بھٹکنے کے بعد سدھارتھ ایک جگہ پہنچا تو وہ ماضی میں کھو گیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں اسے اپنے بیٹے کی ماں کملا ملی تھی۔ پتہ نہیں کتنے عرصے تک سدھارتھ ماضی کی خوشیوں میں کھویا رہا۔ پھر نڈھال ہوکر زمین پر اکڑوں بیٹھ گیا۔ وہ وہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے سر اور جسم پر اتنی خاک اکٹھی ہوگئی کہ وہ دور سے مٹی کا ڈھیر لگنے لگا۔ پھر ایک روز سدھارتھ کو اپنے کندھوں پر واسودیو کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا جو اسے دیکھ کر شفقت سے مسکرا رہا تھا۔ دونوں بڈھوں نے بغیر کچھ کہے واپسی کا اذیت ناک سفر طے کیا۔ کٹیا میں پہنچ کر سدھارتھ زمین پر لیٹ گیا اور چپ چاپ اوپر دیکھنے لگا۔ ناول سدھارتھ پر غور کرنے کے بعد ایک خیال آتا ہے کہ مشرقی کلچر میں بڑوں کے احترام کی تعلیم اور مشترکہ خاندانی نظام باپ اور بیٹے کے اس ازلی کھچائو کے آگے ایک بند تھا لیکن جدید معاشرے اور جدید تعلیم کے باعث یہ رکاوٹیں ڈھے رہی ہیں اور نوجوان پہلے سے زیادہ خوداعتماد ہوگئے ہیں۔ مزید یہ کہ جدید معاشرتی تبدیلیوں کی وجہ سے بعض اوقات میاں بیوی کی ناچاقی میں بیٹے کو ماں کی اَن کہی حمایت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ آج کا بیٹا کل کا باپ ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ بوڑھے ہوتے باپ اور جوان ہوتے بیٹے کے تعلقات کو سمجھا تو جاسکتا ہے لیکن اسے سلجھانا شاید بہت مشکل ہے۔ ماسوائے اس کے کہ باپ اپنے آپ کو دستبردار کرکے دریا کی لہراتی موجوں کو بہنے دے جیسا کہ سدھارتھ نے کیا۔ 

مصنف کے بارے میں