ذمہ داریاں پوری نہیں کرنی تو حکومت سپریم کورٹ کو بند کردے: چیف جسٹس

ذمہ داریاں پوری نہیں کرنی تو حکومت سپریم کورٹ کو بند کردے: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے اپنی آئنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرنی تو سپریم کورٹ کو بند کردے۔ اگر عدالت عظمیٰ لوگوں کو انصاف فراہم نہیں کر سکتی تو سپریم کورٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔


عدالت عظمی میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ مردم شماری میں تاخیر پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ اٹھارہ سال ہوگئے مردم شماری نہیں کرائی گئی ۔ کہاں لکھا ہوا ہے کہ مردم شماری کے لیے فوج کی ضرورت ہے؟ 

انہوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پاکستا کے کتنے علاقوں میں بدامنی ہے۔ ملک کے ہر علاقے میں فوج کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں سول اداروں کی بات کی جاتی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوج ملک کا ہی ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں ہیں کل کوئی اور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے پولیس بھی ہے لیکن فوج اور رینجرز بلائی جاتی ہے۔ حکومت نے ملک کے اندر بھی امن و امان کے لیے فوج کو تعینات کر رکھا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی پولیس بھی تو ہے۔ ملک کے دیگر اداروں کو بھی کام کرنا چاہیے۔

اس پر سیکرٹری شماریات نے کہا کہ 2 لاکھ 88 ہزار فوجی مردم شماری کے لیے لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے اگلے برس مارچ-اپریل میں مردم شماری کروانے کی مشروط تاخیر مسترد کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کی جانب سے دی گئی تحریر محض دکھاوا ہے، لہذا غیر مبہم اور واضح تحریر دی جائے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔