پاکستان کو ہر صورت میں اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے،پاکستان پیپلزپارٹی

پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو ہر صورت میں اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے افغانستان کو پاکستان کا ایک صوبہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک خود مختار ملک سمجھنا قبائلی علاقوں میں سماجی، سیاسی اور معاشی اصلاحات کی کامیابی کے لئے بھی ضروری ہے

پاکستان کو ہر صورت میں اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے،پاکستان پیپلزپارٹی

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو ہر صورت میں اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے افغانستان کو پاکستان کا ایک صوبہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک خود مختار ملک سمجھنا قبائلی علاقوں میں سماجی، سیاسی اور معاشی اصلاحات کی کامیابی کے لئے بھی ضروری ہے۔ فاٹا میں امن و ترقی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک افغانستان میں بھی امن نہ ہو قبائلی علاقوں میں لیویز فورس کو پولیس کے برابر اختیارات دے کر سربراہی پولیس افسر کو دی جائے ۔


آج پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فاٹا ریسرچ سنٹر کے تحت اسلام آباد میں سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افغان پالیسی کے اندر ایسے متعدد سوالات موجود ہیں جن کے جواب نہیں دئیے گئے اور ان کے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ حالیہ اصلاحات پیکیج پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے اس علاقے کو ڈی ملٹرائز کرنے کی بجائے اس پیکیج میں اسے مزید ملٹرائز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ دس سالہ ترقیاتی پیکیج کی مالیت 800ارب روپے ہے اور اس خطیر رقم کو صرف سول اور ملٹری بیوروکریسی کے ہاتھوں میں نہ چھوڑ دیا جائے بلکہ قبائلی علاقوں کے منتخب نمائندوں کو بھی اس ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ احتساب شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سول ملٹری بیوروکریسی کو یہ خطیر رقم اپنے طور پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔