قو م کو بتایا جائے کہ  کتنا قرض لیا اور کہاں کہاں خرچ کیا, سراج الحق کا حکومت سے مطالبہ

قو م کو بتایا جائے کہ  کتنا قرض لیا اور کہاں کہاں خرچ کیا, سراج الحق کا حکومت سے مطالبہ

لاہور: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قو م کو بتایا جائے کہ اندونی اور بیرونی بینکوں اور آئی ایم ایف سے کتنا قرض لیا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ڈرگ مافیا،شوگر مافیا ،لینڈ مافیااور بڑے بڑے سمگلروں نے سیاسی پارٹیوں میں پناہ لے رکھی ہے لیکن نام نہاد سیاسی جماعتیں اپنی بادشاہت قائم رکھنے کیلئے مجرموں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔ تربت میں قتل کے ظالمانہ واقعہ پر پوری قوم غمزدہ ہے، پے درپے دہشت گردی کے واقعات سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکمران عوام کو جان و مال کا تحفظ نہیں دے سکتے ،عوام کی نیندیں اڑ گئی ہیں اور حکمران بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں ۔  پی آئی اے ،اسٹیل ملز ،پی ٹی سی ایل، واپڈا ،  ریلوے اور   او  جی ڈی سی ایل جیسے منافع بخش اداروں کی تباہی کے ذمہ دار حکمران ہیں جنہوں نے اپنے کارخانے چلانے کیلئے قومی اداروں کو تباہ کیا۔برادر تنظیمات آئندہ انتخابات میں جماعت ا اسلامی کے دست و بازو بن کرکرپٹ حکمرانوں سے چھٹکارے کیلئے عوام سے رابطہ بڑھائیں۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ برادر تنظیموں کے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، نائب امراء حافظ محمد ادریس،راشد نسیم ،اسداللہ بھٹو ،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اور ڈپٹی سیکریٹری محمد اصغر ،حافظ ساجد انور ،سید وقاص انجم جعفری و دیگر نے بھی شرکت کی۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی لٹیروں سے قوم کو نجات دلانے کیلئے آخری حد تک جائے گی ہم قوم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ لیٹرے مفاد پرست حکمرانوں کے چنگل سے نکلیں جن کی وجہ سے قوم اور ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک پر انگریز کے غلام مسلط ہیں، اقتدار پر مسلط کرپٹ مافیا کے بڑوں نے انگریز سے وفاداری اور قوم سے غداری کے عوض جاگیریں حاصل کیں ،آج ان کی اولاد ملک پر مسلط ہے جن کا قومی دولت لوٹ کر اپنی جیبیں بھرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ظالم اور مظلوم دو پارٹیاں ہیں ظالم متحد اور منظم ہیں اور مظلوم منتشر ہیں جب تک مظلوم اپنے حقوق کے لئے ان ظالموں کے خلاف متحد ہوکر منظم جدوجہد نہیں کریں گے ان لٹیروں سے جان نہیں چھوٹے گی ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کی جمہوری اور پروگریسو جماعت ہے اور یہی جماعت قوم کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں اس وقت ایک خاندان کی حکومت ہے جو جمہوریت کا راگ الاپتا ہے لیکن اپنے علاوہ کسی اور کو اقتدار میں نہیں دیکھ سکتا۔حکومت جانے کے بعد ان کو جمہوریت یا دآتی ہے۔ ہم ملک میں افراد کی بجائے آئین و قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں ۔ہم ملک میں بے لاگ احتساب کا نظام چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں ۔قوم چاہتی ہے کہ پانامہ کے دیگر کرداروں اور بنکوں کو لوٹنے والوں کے خلاف جو کمیشن بنا ہے ان لٹیروں کابے لاگ احتساب کرے ،انہیں سزائیں دی جائیں اور قومی دولت لوٹنے والوں کے پاسپورٹ اور جائیدادیں ضبط کرکے انہیں اڈیالہ جیل میں بندکیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ لٹیرے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کو نہ چھوڑا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اداروں کی تباہی کے اصل مجرم وہ حکمران ہیں جنہوں نے میرٹ کا قتل عام کرکے جیالوں اور متوالوں کو نوکریاں دیں ۔پی آئی اے ،سٹیل ملز ،واپڈا ،پی ٹی سی ایل اور دیگر اداروں کی تباہی کی وجہ ان میں منظور نظر لوگوں کی بے تحاشا بھرتیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب اسٹیٹس کو کی حامی قوتوں کے دن گنے جاچکے ہیں ،عوام اپنی آئندہ نسلوں کو استحصالی اور ظالمانہ نظام سے بچانے کیلئے جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں اور آئندہ الیکشن میں اسے کامیاب کرائیں تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں۔

نیوویب ڈیسک< News Source